اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

میکشوں میں وہ اضطراب نہیں

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

میکشوں میں وہ اضطراب نہیں
کون اے دوست باریاب نہیں

بار دنیا نہ اٹھ سکا تو کیا
زندگی میرا انتخاب نہیں

دل کی تسکیں بھی چاہتا ہوں میں
میرا مقصد فقط جواب نہیں

اک نہ اک چیز کی کمی ہی رہی
کبھی ساغر کبھی شراب نہیں

دل کو کیونکر فریب دیں باقیؔ
غم حقیقت ہے کوئی خواب نہیں

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button