8 جون, 2020

    صبحِ نو روز

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم
    20 جون, 2020

    پنی نظر کے دام سے نکلے نہ ہم کہیں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    18 مئی, 2025

    دشمن کو سمجھ آئی نہیں یار ہماری

    ڈاکٹر فیصل شہزاد کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    کاشکے دل دو تو ہوتے عشق میں

    میر تقی میر کی ایک غزل
    13 نومبر, 2025

    وہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھا

    اردو غزل از پروین شاکر
    17 نومبر, 2019

    نہ پوچھ اس کی

    جون ایلیا کی ایک اردو غزل
    20 جون, 2020

    دشت دیکھے ہیں گلستاں دیکھے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    جب بٹھاویں مجھے جلاد جفاکار کے پاس

    میر تقی میر کی ایک غزل
    27 جون, 2025

    پیار جو اک حسین سپنا تھا

    محمد علی سوزؔ کی ایک اردو غزل
    20 مئی, 2020

    اس شہر میں رسوائی کا سامان بہت ہے

    سعید خان کی اردو غزل
    20 جولائی, 2021

    تمہاری ذات کا پہلے گماں کوئی نہیں تھا

    طارق جاوید کی ایک اردو غزل
    30 نومبر, 2019

    یہ اُداسی سدا بحال رہے

    ایک اردو غزل از رفیق لودھی
    3 دسمبر, 2019

    دن تو یوں بھی لگے عذاب عذاب

    محسن نقوی کی اردو غزل
    21 جون, 2020

    ہر آہ پر نظر ہے غمِ صبح و شام کی

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    19 نومبر, 2021

    شَفَقِ بے کنار پھیل ذرا

    ایک غزل از عامر ابدال

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button