17 جون, 2020

    تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے

    قابل اجمیری کی اردو غزل
    30 جنوری, 2020

    نظروں پہ ستم دل پہ جفا

    شکیل بدایونی کی ایک اردو غزل
    4 جنوری, 2020

    ذکر جہلم کا ہے

    ایک اردو غزل از گلزار
    25 ستمبر, 2023

    اب کوئی راہ بھی آسان نہیں دیکھنے میں

    مقصود وفا کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    ہم نہ کہتے تھے رہے گا ہم میں کیا یاں سے گئے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    16 نومبر, 2021

    سلامتی کی دعا دے کے با خدا میں نے

    ایک اردو غزل از شازیہ طارق
    8 فروری, 2020

    وہی سائل وہی مسؤل وہی حاجت مند

    اسماعیلؔ میرٹھی کی ایک اردو غزل
    16 فروری, 2020

    دل میرا سوزِنہاں سے بے محابا

    ایک اردو غزل از مرزا غالب
    27 جون, 2020

    نہ میرے باعث شور و فغاں ہو

    میر تقی میر کی ایک غزل
    15 اکتوبر, 2025

    ہر گھڑی اک نیا تقاضا ہے

    شاز ملک کی ایک اردو غزل
    5 دسمبر, 2021

    فریب دیتی رہی ہیں محبتیں کیا کیا

    سید عدید کی ایک اردو غزل
    7 دسمبر, 2025

    دل میں کسی کے واسطے

    فیاض ڈومکی کی ایک اردو غزل
    24 جون, 2020

    مہرباں ہو کے جب ملیں گے آپ

    داغ دہلوی کی اردو غزل
    9 نومبر, 2025

    نا مکیں یہاں کے ہم

    رشید حسرت کی ایک اردو غزل
    4 فروری, 2020

    بجھانے میں ہواؤں کی

    جیوتی آزاد کھتری کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button