آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکاشف حسین غائر

خواب بُنتا رہوں میں بستر پر

کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل

خواب بُنتا رہوں میں بستر پر
اور تکیہ کروں مقدّر پر

محوِ پرواز ہے یہ دل اور میں
جاں چھڑکتا ہوں اِس کبوتر پر

عمر بھر دیکھتے رہے سائے
دھوپ پڑتی رہی مرے سر پر

خود سے مشکل ہُوا سخن کرنا
وقت وہ آ پڑا سخن وَر پر

نیند اُڑنے لگی ہے آنکھوں سے
دھُول جمنے لگی ہے بستر پر

خاک ہونے سے پیش تر غائر
نقش ہو جاؤں کیوں نہ پتھر پر

کاشف حسین غائر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button