آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریکاشف حسین غائر

متاعِ جسم و جاں کس کے لیے ہے

کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل

متاعِ جسم و جاں کس کے لیے ہے
یہ مٹّی، یہ دھُواں کس کے لیے ہے

وہ میری زندگی کس کے لیے تھی
یہ میری داستاں کس کے لیے ہے

ہمِیں اِس کام پر مامور کیوں ہیں
یہ سعیِ رائیگاں کس کے لیے ہے

اگر لا حاصلی ہے اِس کا حاصل
تو یہ کارِ جہاں کس کے لیے ہے

نہیں کوئی اگر دامن کشِ دل
تو یہ دریا رواں کس کے لیے ہے

ہَوا کیا ڈھونڈتی پھرتی ہے غائر
یہ آوارہ یہاں کس کے لیے ہے
(نذرِ رسا چغتائی)

کاشف حسین غائر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button