4 مئی, 2020

    ہزار طعنے سنے گا،خجِل نہیں ہو گا

    عابِد ملک کی ایک اردو غزل
    24 ستمبر, 2021

    میں اور تم

    طارق اقبال حاوی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    ملتفت ہوتا نہیں ہے گاہ تو

    میر تقی میر کی ایک غزل
    5 دسمبر, 2021

    گئی آوارگی اور نقشِ بام و در پسند آیا

    سعید خان کی اردو غزل
    20 جون, 2025

    آنکھ کو آئنہ سمجھتے ہو

    ہمانشی بابرا کی ایک اردو غزل
    14 مئی, 2020

    فراقِ یار میاں ٹھیک ہَو بھی سکتا ہے

    سمیر شمس کی اردو غزل
    25 جون, 2020

    پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    26 مئی, 2020

    گھر برسنے لگے ہیں بارش میں

    ایوب خاور کی اردو غزل
    17 دسمبر, 2019

    چاندنی میں، سایہ ہائے کاخ و کُو

    مجید امجد کی ایک اردو غزل
    21 اکتوبر, 2019

    آدمی وقت پر گیا ہوگا

    جون ایلیا کی ایک خوبصورت غزل
    18 دسمبر, 2019

    وہ قامتِ بلند نہیں در قبائے ناز

    حسرت موہانی کی ایک اردو غزل
    12 دسمبر, 2021

    کچھ ایسے اگلے سفر کی تکان طاری ہوئی

    خالد سجاد کی ایک اردو غزل
    20 مئی, 2020

    جو گریزاں ہو نہ بیباک ملے

    سعید خان کی اردو غزل
    1 جنوری, 2022

    پیار ایثار وفا شعر و ہنر کی باتیں

    ایک اردو غزل از حمیدہ شاہین
    4 اپریل, 2026

    اپنی ہر اک ادا میں بہت دل نشین تھا

    معظمہ نقوی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button