رحمتاں سرکارِ دوعالم دیاں
تحریر : سہیل احمد صمیمؔ
” عبدالوحید بسمل کی کتاب "رحمتاں سرکارِ دوعالم دیاں”
عبدالوحید بسمل پر سرکارِ دو عالم ﷺ کی ایسی خاص عنایت ہوئی کہ ہندکو نعتیہ کتاب کے بعد، ان کی یہ تصنیف بھی سیرتِ رسول ﷺ پر مشتمل ہے۔ یہ نہ صرف اُن کی نبی کریم ﷺ سے والہانہ محبت کا مظہر ہے بلکہ اس بات کی گواہی بھی ہے کہ سرکارِ دوعالم ﷺ نے ان کی تخلیقات کو اپنی بارگاہ میں قبولیت بخشی ہے۔
مذکورہ کتاب "رحمتاں نبی دیاں” نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرتِ طیبہ پر ایک جامع تحریر ہے، جو بالخصوص آپ ﷺ کی معاشرتی، سماجی اور اخلاقی اصلاحات پر روشنی ڈالتی ہے۔ اس کتاب کا ہر لفظ عبدالوحید بسمل کی سرکارِ دو عالم ﷺ سے بےپناہ عقیدت اور ادب کا عکاس ہے۔
انہوں نے اس کتاب میں نہ صرف نبی کریم ﷺ کی عظیم اصلاحی جدوجہد کو قرینے اور سلیقے سے بیان کیا ہے بلکہ دورِ جاہلیت کے رسم و رواج کا بھی ذکر کیا ہے، جنہیں رسول اکرم ﷺ نے اپنی تعلیمات اور عمل سے بدل کر ایک عادلانہ اور متوازن معاشرہ قائم کیا۔ یہ کتاب سیرتِ رسول ﷺ کے پہلوؤں کو گہرائی سے اجاگر کرتے ہوئے، قاری کو ایک فکری اور روحانی سفر پر لے جاتی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے غلاموں، کنیزوں اور کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے جو انقلابی اصلاحات متعارف کروائیں، وہ آج بھی ہر معاشرے کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ جانوروں کے
حقوق سے لے کر انسانیت کی فلاح تک، ہر پہلو پر رسولِ اکرم ﷺ کی ہدایات زندگی گزارنے کا ایک مکمل اور جامع نظامِ حیات فراہم کرتی ہیں۔ عبدالوحید بسمل نے اِن تمام اصلاحات کو موجودہ دور کے تناظر میں نہایت خوبصورتی اور گہرائی سے بیان کیا ہے۔
یہ کتاب پڑھنے کے بعد یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ دینِ اسلام اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات نہ صرف انفرادی اور معاشرتی سطح پر بلکہ بین الاقوامی امور میں بھی اعلیٰ ترین اور مسلمہ اصول فراہم کرتی ہیں، جن کی روشنی وقت کے ساتھ مزید نکھرتی اور تابندہ ہوتی جاتی ہے۔
آج جب دنیا نفرت، تفرقہ بازی اور انسانی اقدار کی پامالی کا شکار ہے، ایسے میں یہ کتاب ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ اسلامی اصول محبت، رواداری، مساوات اور عدل پر مبنی ہیں۔ اس کتاب کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ محض تاریخی واقعات کو بیان نہیں کرتی بلکہ ہمارے حال اور مستقبل کی تعمیر کا پیغام بھی دیتی ہے، ایک ایسا مستقبل جو محبت، اخوت اور سنہری اسلامی اصولوں سے منور ہو۔
عبدالوحید بسمل نے یہ کتاب ہندکو زبان میں تحریر کرکے نہ صرف اس زبان کو مزید مستحکم کیا ہے بلکہ ہندکو میں سیرتِ طیبہ پر تحقیق کے نئے دروازے بھی کھول دیے ہیں۔ یہ تصنیف نئے لکھاریوں کے لیے بھی ایک مثالِ نور ہے اور ہر اس شخص کے لیے نایاب تحفہ ہے جو نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو گہرائی سے سمجھنا اور ان کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا چاہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ عبدالوحید بسمل کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ان کے لیے یہ توشۂ آخرت بنے۔ آمین۔








