آپ کا سلاماردو تحاریراردو کالمزاسلامی گوشہمقالات و مضامین

اختلافِ رائے کے آداب اور اتحادِ امت

مضمون نگار : مجیب الرحمن

تمہید
الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام على محمد النبی الأمین، وعلى آلہ وصحبہ أجمعین۔

انسانی معاشرے میں اختلاف ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مختلف عقلیں، مزاج اور ذوق عطا کیے ہیں، اس لیے ایک مسئلے میں مختلف آراء سامنے آ جانا حیرت کی بات نہیں۔ لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ اختلاف ہوتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اختلاف کرتے کس انداز میں ہیں۔ یہی انداز فیصلہ کرتا ہے کہ اختلاف علم و فہم کے فروغ اور رحمت کا سبب بنے گا، یا تفرقہ اور نفرت کا۔
ہمارے زمانے میں یہ موضوع بہت زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ جن مسائل پر پہلے علماء کی مجلسوں میں ادب اور دلیل کے ساتھ گفتگو ہوتی تھی، آج وہی مسائل سوشل میڈیا، بازاروں اور مسجدوں کے صحن میں تلخی اور الزام تراشی کی نذر ہو رہے ہیں۔ اس مضمون میں قرآن و سنت اور سلفِ صالحین کے طریقے سے اختلاف کی حقیقت، اس کے آداب اور اتحادِ امت کے تقاضوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اختلاف کی حقیقت اور اس کی اقسام:

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً ۖ وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ﴾ (ہود: 118)۔ یعنی اگر آپ کا رب چاہتا تو سب انسانوں کو ایک ہی امت بنا دیتا، مگر وہ مختلف رہیں گے۔ یہ اختلاف انسانی فطرت اور امتحان کا حصہ ہے۔ اسی لیے مسلم معاشرے کا کام اختلاف کو جڑ سے اكھاڑنا نہیں، بلکہ اسے دائرۂ ادب میں رکھنا ہے۔

اختلاف کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں:

پہلی قسم: اختلافِ تنوع۔ یعنی ایسے مسائل جن میں شریعت نے کئی صورتیں جائز رکھی ہیں، جیسے نماز کے بعض اذکار یا اذان و اقامت کے بعض الفاظ میں وارد مختلف طریقے۔ اس میں ایک طریقے پر عمل کرنے والا دوسرے طریقے پر عمل کرنے والے کو غلط نہیں کہہ سکتا۔ اصل سنت یہ ہے کہ جو طریقہ ثابت ہو اسے اپنایا جائے اور دوسرے ثابت طریقوں کا انکار نہ کیا جائے۔

دوسری قسم: اختلافِ تضاد۔ یعنی ایسے مسائل جن میں اہلِ علم کے اقوال آپس میں متضاد ہوں، جیسے فقہی اختلافات۔ یہاں دو متضاد باتیں بیک وقت درست نہیں ہو سکتیں، اس لیے اہلِ علم دلیل کی روشنی میں ترجیح قائم کرتے ہیں۔ لیکن اس ترجیح کے باوجود ادب اور احترام باقی رہنا چاہیے، کیونکہ اجتہادی اختلاف میں مجتہد خطا کرے تب بھی اس کے لیے اجر کی موافقت بھی ثابت ہے (بخاری و مسلم)۔
اسی کے ساتھ ایک اور اہم فرق یاد رکھنا ضروری ہے۔ قرآن نے جن اختلافات کی مذمت کی ہے، وہ وہ ہیں جو واضح دلائل آنے کے بعد ضد، نفس پرستی اور آپسی حسد سے پیدا ہون: ﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ﴾ (آل عمران: 105)۔ یعنی مذمت مخلص اہلِ علم کے دلیل سے مبنی اجتہادی اختلاف کی نہیں، بلکہ اس اختلاف کی ہے جو حق واضح ہو جانے کے باوجود جاری رکھا جائے، یا جس کا مقصد حق نہیں بلکہ نفسی جیت ہو۔

قرآنِ مجید کی رہنمائی:

قرآن نے اختلاف کو بے لگام نہیں چھوڑا، بلکہ اس کے لیے واضح مرجع اور اخلاقی حدود مقرر کیے:
• مرجع کی طرف رجوع: ﴿فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ﴾ (النساء: 59)۔ یعنی جب بھی نزاع ہو، فیصلہ کتاب و سنت سے کیا جائے، نہ کہ ذاتی پسند سے۔

• اتحاد کا حکم: ﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾ (آل عمران: 103)۔ اتحاد اسی رسی سے وابستہ ہے جس کا سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

• نزاع کا نقصان: ﴿وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ﴾ (الانفال: 46)۔ آپسی لڑائی قوت کو ختم اور وقار کو متاثر کر دیتی ہے۔

• اخوت کا رشتہ: ﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ﴾ (الحجرات: 10)۔ اختلاف کے باوجود ایمانی اخوت باقی رہتی ہے۔

• عدل اور انصاف: ﴿وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ﴾ (المائدہ: 8)۔ مخالف کے ساتھ بھی عدل لازم ہے۔

• بغیر علم کے بات نہ کرنا: ﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ﴾ (الاسراء: 36)۔ اختلافی مسائل میں سب سے زیادہ غلطیاں اسی بے علمی سے ہوتی ہیں۔

• بدگمانی اور عیب جوئی سے پرہیز: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ﴾ (الحجرات: 12)۔ اس آیت میں جاسوسی اور غیبت سے بھی منع کیا گیا ہے، یعنی مخالف کی نیت پر حملہ اور اس کی پیٹھ پیچھے برائی ناجائز ہے۔

سیرتِ نبوی و صحابہ کے نمونے:

نبی کریم ﷺ نے امت کو اختلاف کے باوجود محبت اور تحمل کے ساتھ رہنے کی عملی تربیت دی۔ غزوۂ بنو قریظہ کے موقع پر آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ عصر بنو قریظہ پہنچ کر هی پڑھی جائے۔ راستے میں نماز کا وقت تنگ ہونے لگا تو بعض صحابہ نے کہا کہ آپ ﷺ کا مقصد جلدی پہنچنا تھا، لہٰذا راستے میں نماز پڑھ لیں، اور بعض نے اس حکم کا ظاہری مطلب لیتے ہوئے بنو قریظہ پہنچ کر نماز پڑھی۔ نبی کریم ﷺ کو جب یہ بات بتائی گئی تو آپ ﷺ نے ان میں سے کسی کو بھی ملامت نہیں فرمائی (صحیح بخاری و مسلم)۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ نیک نیتی اور نص کے فہم میں اجتہادی فرق پر سختی نہیں کی جاتی۔
نبی کریم ﷺ نے اتحاد کی تصویر یوں بیان کی: "مومنوں کی مثال آپس کی محبت، رحم اور شفقت میں ایک جسم جیسی ہے، جب اس کا ایک عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو پورا جسم بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے” (صحیح بخاری و مسلم)۔ اور فرمایا: "مومن مومن کے لیے ایک عمارت کی طرح ہے جس کا بعض حصہ دوسرے كو مضبوطی دیتا ہے” (صحیح بخاری و مسلم)۔ ایک اور موقع پر فرمایا: "آپس میں حسد نہ کرو، بولی بڑھانے کے لیے بھاؤ نہ لگاؤ، بغض نہ رکھو، اور اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ” (صحیح مسلم)۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی انی تعلیمات کو عملی شکل دی۔ وہ بعض مسائل میں ایک دوسرے سے مختلف رائے رکھتے تھے، مگر ان کے دل ایک ساتھ تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مسافر ہوتے ہوئے چار رکعت پڑھنے پر اعتراض کیا، لیکن پھر ان کے پیچھے چار رکعت ہی پڑھیں اور فرمایا کہ اختلاف برا ہے (سنن ابی داؤد)۔ یہ نمونہ بتاتا ہے کہ رائے کا اختلاف جماعت کی وحدت توڑنے کا جواز نہیں بناتا۔

ائمۂ کرام کا طرزِ عمل بھی یہی رہا۔ امام ابو حنیفہ، مالک، شافعی اور احمد رحمہم اللہ نے بہت سے مسائل میں اختلاف کیا، مگر ایک دوسرے کے علم و فضل کا اعتراف بھی کیا۔ امام شافعی سے ایک مشہور بات منسوب کی جاتی ہے کہ میری رائے درست ہے مگر خطا کا احتمال رکھتی ہے، اور دوسرے کی رائے خطا ہے مگر صواب کا احتمال رکھتی ہے۔ یہ جملہ ایک محقق کے علمی تواضع اور دلیل پر توجہ کا خلاصہ ہے۔

اختلاف کے بنیادی آداب
1۔ نیت کی صفائی اور اخلاص۔ اختلاف کا مقصد حق کی تلاش ہو، نہ کہ خود کو برتر ثابت کرنا یا دوسرے کو نیچا دکھانا۔ جب نیت خالص ہو تو لہجہ بھی نرم رہتا ہے اور بات میں اثر بھی آ جاتا ہے۔
2۔ علم کی بنیاد پر بات۔ اختلافی مسائل میں بات وہی کرے جس نے مسئلے کا مطالعہ کیا ہو اور اس کے دلائل و ماخذ سے واقف ہو۔ عوام کی مجلس میں متشابہ اور باریک اختلافی بحثیں چھیڑنا دانش مندی نہیں، کیونکہ وہ ان میں الجھن اور بے اعتمادی پیدا کرتی ہیں۔
3۔ حسنِ ظن۔ مخالف رائے رکھنے والے کو پہلے سے ہی گمراہ یا دنیا پرست سمجھ لینا عدل کے خلاف ہے۔ جب تک اس کی بات واضح طور پر سن اور سمجھ نہ لیں، اس پر حکم نہ لگائیں۔
4۔ مخالف کی بات کو اسی کے الفاظ میں سمجھنا۔ اكثر نزاع اس لیے بڑھتا ہے کہ ہم دوسرے کی بات کو اس کی مراد سے ہٹا کر پیش کرتے ہیں۔ انصاف یہ ہے کہ پہلے اس کے موقف کو اس کی کتاب یا اس کے الفاظ سے سمجھا جائے، پھر دلیل کے ساتھ اس میں موجود کمزوری بتائی جائے۔
5۔ زبان کی احتیاط۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں” (صحیح بخاری و مسلم)۔ اختلاف کے دوران طنز، لقب بازی، گالی اور ذاتی حملوں سے بچنا ایمان کی علامت ہے۔
6۔ تکفیر و تفسیق میں احتیاط۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جب کوئی اپنے بھائی کو کافر کہے تو ان دونوں میں سے ایک اس کے ساتھ لوٹ جاتا ہے” (صحیح بخاری و مسلم)۔ لہٰذا فروعی یا اجتہادی اختلاف میں کسی کو کافر، فاسق یا بدعتی كہنے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔ یہ فیصلے راسخ فی العلم اہلِ علم کے شرائط اور موانع سے وابستہ ہوتے ہیں، ہر شخص کے نہیں۔
7۔ مسائل کی درجہ بندی۔ دین میں اصول اور فروع کا فرق ہے۔ توحید، رسالت، آخرت اور قطعی ارکانِ دین ایسے مسائل نہیں جن میں نرمی کی گنجائش ہو، لیکن مختلف فیہ اجتہادی مسائل میں دلیل کی قوت کے باوجود دوسرے نقطۂ نظر کے لیے گنجائش رکھنی چاہیے۔ اصل دانش مندی یہ ہے کہ انسان جان سکے کہ کس مسئلے میں سختی اور کس میں گنجائش ہے۔
8۔ جدال و مراء سے پرہیز۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "میں جنت کے اطراف میں ایک گھر کی ضمانت دیتا ہوں اس شخص کے لیے جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے” (سنن ابی داؤد، حسن)۔ مناظرہ اگر علمی ازالہِ شبہ اور حق کی وضاحت کے لیے ہو تو مفید ہے، لیکن اگر مقصد فقط مخالف کو چپ کرانا ہو تو وہ دلوں کو سخت اور فاصلوں کو زیادہ کر دیتا ہے۔
9۔ رجوع کا حوصلہ۔ جب دلیل واضح ہو جائے تو اپنی رائے سے رجوع کر لینا کمزوری نہیں، علمی عظمت کی نشانی ہے۔ سلف کی سیرت اس پر شاہد ہے کہ وہ صحیح دلیل سامنے آنے پر اپنا قول چھوڑ دیتے تھے۔

اتحادِ امت کی حقیقت اور بنیادیں
اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ تمام لوگ ہر مسئلے میں ایک ہی رائے رکھنے لگیں، یہ نه ممکن ہے اور نہ شرعاً مطلوب۔ اتحاد سے مراد ایک دوسرے کے ساتھ دلوں کی وابستگی، مشترکہ مقاصد پر اتفاق اور اختلاف کے باوجود باہمی احترام ہے۔ اس اتحاد کی چند بنیادیں یہ ہیں:
• عقیدۂ توحید و رسالت: ایک اللہ، ایک رسول، ایک قرآن اور ایک قبلہ پر ایمان مسلمانوں کی سب سے مضبوط بنیاد ہے۔
• کتاب و سنت سے وابستگی: ہمارے نزدیک اتحاد کا صحیح راستہ وہی ہے جو کتاب و سنت سے شروع ہوا، یعنی اتحاد اشخاص یا جماعتوں کے گرد نہیں، وحی کے گرد ہو۔
• اخلاقی مشترکات: صدق، امانت، عدل اور رحم جیسی اقدار سب کا مشترک سرمایہ ہیں۔
• مشترکہ ذمہ داریاں: تعلیم، دعوت، مساجد و مدارس کی حفاظت اور مظلوموں کی مدد جیسے میدان ایسے ہیں جہاں مل کر کام کرنے سے بڑی خیر حاصل ہوتی ہے۔
یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے: اتحاد کی قیمت حق کو چھوڑنا نہیں۔ اگر اتحاد کا مطلب ہر بات پر خاموش رہنا ہو تو وہ مصلحت ہے، اتحاد نہیں۔ لیکن اس کے واسطے بھی کوئی جواز نہیں کہ اتحاد کا نام لے کر اختلاف کو دشمنی بنا لیا جائے۔ حق کا اظہار حکمت اور خیر خواہی سے ہو، اور اتحاد کا اہتمام حق پر قائم رہ کر ہو۔ دونوں مطلوب ہیں اور ایک دوسرے کے متضاد نہیں۔
موجودہ دور کے چیلنجز
سوشل میڈیا۔ آج ہر شخص ایک منبر کا مالک بن چکا ہے۔ ایک مختصر ویڈیو یا کٹ کر نکالی گئی ایک ادھوری بات سیکنڈوں میں هزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے اور بہت سے لوگ بغیر تحقیق کے اسے آگے بھیج دیتے ہیں۔ قرآن کا حکم یہ ہے کہ جب کوئی خبر آئے تو تحقیق کر لو (الحجرات: 6)۔ ہمیں اس حکم کو اپنی انگلیوں کے سروں پر لانا ہے۔
انتشار اور جماعت پسندی۔ بعض اوقات جماعتی وابستگی اتنی غالب ہو جاتی ہے کہ وہ دلیل سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ حالانکہ حق اشخاص سے نہیں پہچانا جاتا، بلکہ حق سے اشخاص کو پہچانا جاتا ہے۔
نئی نسل کی الجھن۔ نوجوان جب علماء کو آپس میں الجھتے دیکھتے ہیں تو کئی دین سے دور ہونے لگتے ہیں، اور کئی تشدد اختیار کرتے ہیں۔ اس کا علاج اسی وقت ہو سکتا ہے جب بڑے خود اختلاف کے آداب کا نمونہ بنیں۔
وقتی مصلحتیں اور بیرونی اثرات۔ اکثر اوقات مسلکی اختلافات کو سیاسی یا ذاتی مفادات کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اہلِ علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان عناصر سے خود کو محفوظ رکھیں اور عوام کو بھی آگاہ کریں۔
عملی تجاویز
1. علماء کے لیے: مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کی مشترکہ نشستیں ہوں، جن میں اختلافی مسائل علمی انداز میں زیرِ بحث آئیں اور مشترکہ مسائل پر ایک آواز سے بات کی جائے۔
2. ائمۂ مساجد اور خطباء کے لیے: منبر سے دلوں کو جوڑنے کی بات ہو، کاٹنے کی نہیں۔ عوام کے سامنے باریک اختلافی بحثوں کی بجائے اصلاحِ عقیدہ و عمل پر زور دیا جائے۔
3. مدارس اور اساتذہ کے لیے: طلبہ کو اختلاف کے آداب، ائمہ کے اقوال اور ان کے اسبابِ اختلاف سکھائے جائیں تاکہ وہ مخالف کو سمجھنے اور اس کا احترام کرنے کے عادی بنیں۔
4. نوجوانوں کے لیے: سوشل میڈیا پر کوئی بات آگے بھیجنے سے پہلے اس کی تحقیق کی جائے اور کسی عالم یا مسلک کو نشانہ بنانے سے پرہیز کیا جائے۔
5. عوام کے لیے: اہلِ علم کے اختلاف سے دل برداشتہ ہونے کی بجائے یہ سمجھنا چاہیے کہ مسائل میں وسعت شریعت کا حسن ہے اور مقامی مسجد و جماعت کے اتحاد کو مقدم رکھنا چاہیے۔
خاتمہ
اختلاف بذاتِ خود مذموم نہیں، مذموم وہ رویہ ہے جو اختلاف کو دشمنی اور نفرت میں بدل دے۔ قرآن و سنت اور سلفِ صالحین کی روشنی میں ہمیں جو راستہ نظر آتا ہے وہ یہ ہے: دلیل کا اتباع، نیت کی صفائی، لہجے کی نرمی، مخالف کے ساتھ انصاف، اور امت کی وحدت کا اہتمام۔ جب ہم اپنی رائے کو دلیل کی روشنی میں مضبوطی سے رکھیں اور دوسرے کو احترام اور اخلاص سے سنیں، تب اختلاف بھی علم کی وسعت اور امت کی رحمت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
اللّٰہم ألّف بین قلوبنا، وأصلح ذات بیننا، واجعلنا من المتبعین للحق بالحکمة والموعظة الحسنة۔ آمین۔

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button