کوئی بتائے کہ میزبان ہوں یا مہمان ہوں میں
مجھ میں جان باقی ہے یا بے جان ہوں میں
میں ایک خواب ہوں جو پورا نہ ہوا
یا پھر ایک ادھورا ارمان ہوں میں
کہیں پوری کہانی میں میرا ذکر نہیں
تو کہیں داستان کا عنوان ہوں میں
مجھے کچھ خیال نہیں ہے اپنا
دیکھ کر بتاؤ خوش ہوں یا پریشان ہوں میں
بزرگوں کی محفل میں میرا ذکر بزرگوں کی طرح ہے
دیکھنے والوں کی نظروں میں جوان ہوں میں
سیانے مجھے سیانا کہتے ہیں رافی
نادانوں کی نظروں میں نادان ہوں میں
حسنین رافی








