حسنین رافی
میرا نام محمد حسنین خان ہے اور میرا تخلص رافی ہے۔ میرا تعلق میانوالی کے ایک چھوٹے سے گاؤں غنڈی سے ہے۔ میرے والد صاحب کا نام احمد نواز ہے۔ میری تاریخِ پیدائش 15 ستمبر 2010ء ہے اور میں میٹرک کا طالب علم ہوں۔
میں نے بارہ سال کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا اور میری پہلی تخلیق ایک حمد تھی۔ مجھے اردو شاعری میں آج تک کسی استاد کی رہنمائی یا شاگردی نصیب نہیں ہوئی۔ میں نے اپنے ذاتی شوق، مطالعے اور مسلسل مشق کے ذریعے شاعری کا سفر جاری رکھا ہے۔میرے علاقے میں اردو شاعری کو زیادہ فروغ حاصل نہیں، جس کی وجہ سے مجھے اس فن کو سیکھنے اور کسی استاد کی صحبت میں رہنے کا موقع نہیں مل سکا۔ میں نے اپنی کوشش اور ذاتی مطالعے کے ذریعے ہی شاعری سیکھنے کی کوشش کی ہے۔میں اپنی شاعری کو کامل نہیں سمجھتا اور اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ میرے کلام میں اصلاح اور بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ میری خواہش ہے کہ میری تخلیقات اہلِ ادب تک پہنچیں اور مجھے اپنے ادبی سفر کو آگے بڑھانے اور اپنی شاعری کو نکھارنے کا موقع ملے۔
-

اس شہر میں اتنا ویرانہ کیوں ہے
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
-

اس شہر کی کہانیاں بہت ہیں
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
-

میں نے اس کی طرف جانا چھوڑ دیا
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
-

اسے میرا کوئی خیال نہیں ہے
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
-

آدم ذات کو آدم ذات کی خبر نہیں
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
-

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
-

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
-

یوں آسماں کے ستارے نہ دیکھ
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
-

لوگ نکمّے ہم سے سروکار نہیں رکھتے
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
-

روٹھے ہوؤں کو منانا تو چاہیے
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
-

سکون تلاشتے تلاشتے شام ہو گئی
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
-

وہ زندگی بھی کتنی پرلطف زندگی تھی
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
-

میرے گھر میں آتا ہی کون ہے؟
حسنین رافی کی ایک اردو غزل
-

ہر ایک کو سلام کیے جاتا ہوں
حسنین رافی کی ایک اردو غزل

