میں نے اس کی طرف جانا چھوڑ دیا
اس نے میری طرف آنا چھوڑ دیا
صدائیں لگاتا تھا، آتا نہ تھا کوئی
میں نے بھی لوگوں کو بلانا چھوڑ دیا
جہاں کوئی مجھے حق دار نہیں سمجھتا تھا
وہاں میں نے حق جتانا چھوڑ دیا
میں نے غموں سے دوستی کر لی
اور خوشیوں سے ملنا ملانا چھوڑ دیا
لوگ جھوٹ پر یقین کرنے لگے
اور میں نے سچ بتانا چھوڑ دیا
گھر جلانے میں مشغول ہوئی اتنی رافی
کہ اب آگ نے لکڑیاں جلانا چھوڑ دیا
حسنین رافی








