- Advertisement -

یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں
اپنی زنجیر ہلا دیتے ہیں

پہلے ہر بات پہ ہم سوچتے تھے
اب فقط ہاتھ اٹّھا دیتے ہیں

قافلہ آج کہاں ٹھہرے گا
کیا خبر آبلہ پا دیتے ہیں

بعض اوقات ہوا کے جھونکے
لو چراغوں کی بڑھا دیتے ہیں

دل میں جب بات نہیں رہ سکتی
کسی پتھر کو سنا دیتے ہیں

ایک دیوار اٹھانے کے لئے
ایک دیوار گرا دیتے ہیں

سوچتے ہیں سر ساحل باقیؔ
یہ سمندر ہمیں کیا دیتے ہیں

باقی صدیقی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
باقی صدیقی کی ایک اردو غزل