اردو نظمایوب خاورشعر و شاعری

تم سے کہنا تھا

ایوب خاور کی اردو نظم

اِک نظر کی فرصت میں
سطحِ دل پہ کھل اُٹھے
لفظ بھی، معانی بھی
خامشی کی جھلمل میں
آگ بھی تھی، پانی بھی
دِل نے دھڑکنوں سے بھی
جو کہی نہیں اب تک
اَن کہی کہانی بھی
ان کہی کہانی میں
آنکھ بھر تمنّا تھی
ہاتھ بھر کی دُوری پر
لمس بھر کی قربت تھی
لمحہ بھر کا سپنا تھا

ایوب خاور 

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button