اردو غزلیاتسپنا مولچندانیشعر و شاعری

جب تلک وہ نظر نہیں آتا

سپنا مولچندانی کی ایک اردو غزل

جب تلک وہ نظر نہیں آتا
درد دل کا ابھر نہیں آتا

جس کے حصہ میں ہوں سفر نامے
اس کے حصہ میں گھر نہیں آتا

یہ محبت کی ایک خوبی ہے
عیب کوئی نظر نہیں آتا

جس دعا میں ملی ہو خود غرضی
اس دعا کا اثر نہیں آتا

ہاں اسے بھی ہے وصل کی چاہت
چاہتا ہے مگر نہیں آتا

کیوں کرے وقت انتظار اس کا
جو کبھی وقت پر نہیں آتا

کتنا دشوار ہے سفر میرا
جس میں کوئی شجر نہیں آتا

دوستی بھی ہو اور رنجش بھی
مجھ کو ایسا ہنر نہیں آتا

وہ مری نظم میں اتر آئے
یاد وہ اس قدر نہیں آتا

کوئی بھی دل سے جب اتر جائے
وہ کبھی لوٹ کر نہیں آتا

سپنا مولچندانی

post bar salamurdu

کرن شہزادی

سلام اردو ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button