آپ کا سلاماردو غزلیاتشاہد عباس ملکشعر و شاعری

راہ مشکل سہی بے خوف گزر آتے ہیں

شاہد عباس ملک کی ایک اردو غزل

راہ مشکل سہی بے خوف گزر آتے ہیں
ہم کو صحراوں کے آدابِ سفر آتے ہیں

منتظر اپنا کہاں کوئی ہیں خالی کمرے
آج کل دیر بہت دیر سے گھر آتے ہیں

دن بھلانےمیں جنہیں میراگزرجاتا ہے
شام ہوتے ہی نگاہوں میں اتر آتے ہیں

حوصلہ پایا ہےگرداب سےلڑ کر میں نے
راستہ جب ہو سمندر تو بھنور آتے ہیں

خون پانی میں ملا کر جو پلائے مالی
تب کہیں جاکےدرختوں پہ ثمر آتے ہیں

ان کی بے لوث دعاؤں کو غنیمت جانو
یہ جو درویش ترے در پہ نظر آتے ہیں

ہائے عشاق کا شاہد یہ کلیجہ توبہ
اپنے ہاتھوں پہ اٹھائےہوئےسرآتے ہیں

شاہد عباس ملک

شاہد عباس ملک

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر خوشاب کے گاوں پدھراڑ سے تعلق ہے اور پیشہ کے اعتبار سے انجینئر ہیں شاعری کا شوق سکول کے دور سے ہی ہے اور سکول دور سے ہی شاعری کر رہے ہیں نعتیہ کلام لکھتے بھی ہین اور نعت پڑھنے کا شوق بھی رکھتے ہیں اردو ادب سے لگاو بچپن سے ہے ۔ شاعروں میں علامہ اقبال، ناصر کاظمی داغ دہلوی اور غالب بہت پسند ہیں ۔ ایک معروف ادبی تنظیم "عالمی ادب اکادمی " سے وابستہ ہیں اور تحصیل کوآرڈینیٹر کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور ادب کی خدمت میں اپنا کردار بخوبی ادا کر رہے ہیں دو کتب اشاعت کے مراحل میں ہیں ایک نعتیہ کلام پر مبنی جو ربیع الاول میں آئے گی اور ایک عزلیات پر مشتمل ہے جو اسی سال دسمبر میں شائع ہوگی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button