- Advertisement -

بیٹھے ہیں چین سے کہیں جانا تو ہے نہیں

رحمان فارس کی ایک غزل

بیٹھے ہیں چین سے کہیں جانا تو ہے نہیں

ہم بے گھروں کا کوئی ٹھکانا تو ہے نہیں

تم بھی ہو بیتے وقت کے مانند ہو بہو

تم نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں

عہد وفا سے کس لیے خائف ہو میری جان

کر لو کہ تم نے عہد نبھانا تو ہے نہیں

وہ جو ہمیں عزیز ہے کیسا ہے کون ہے

کیوں پوچھتے ہو ہم نے بتانا تو ہے نہیں

دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال

ہم نے ترے فریب میں آنا تو ہے نہیں

وہ عشق تو کرے گا مگر دیکھ بھال کے

فارسؔ وہ تیرے جیسا دوانہ تو ہے نہیں

رحمان فارس

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
رحمان فارس کی ایک غزل