اس شہر میں اتنا ویرانہ کیوں ہے
بکھرا ہوا ہر ایک گھرانہ کیوں ہے
اس شہر کے سیانے کہاں چلے گئے
اس شہر میں ہر ایک دیوانہ کیوں ہے
جب ہم سے کوئی جرم سرزد نہیں ہوا
تو ہمارا انداز اتنا مجرمانہ کیوں ہے
ہم بھاگے تو بہت پر پتھر سر پہ لگے
نہ جانے اتنا اچھا لوگوں کا نشانہ کیوں ہے
جو شخص گزرا ہے بادشاہ تو نہیں ہے
پھر اس کا انداز اتنا شاہانہ کیوں ہے
جو انداز مجھ سے برتا گیا ہے
سخت تکلیف دہ ہے، دوستانہ تو نہیں ہے
اس شہر میں اپنائیت کیوں محسوس نہیں ہوتی رافی
ہر ایک اپنا ہے، کوئی بیگانہ تو نہیں ہے
حسنین رافی







