ملائشیا کی یونیورسٹی کے طلبا ایبٹ آباد یونیورسٹی میں
گزشتہ ماہ ہماری علمی اور علاقائی فضا میں ایک خوشگوار ہَوا نے دستک دی۔ یعنی یونیورسٹی آف ملائیشیا ترنگانو سے 26 سٹوڈنٹس کا ایک باوقار وفد ایبٹ آباد یونیورسٹی
میں کلچرل ایکسچینج پروگرام کے تحت پانچ روزہ قیام کے لیے آیا۔ اس وفد کی قیادت ڈاکٹر مقدس کر رہی تھیں جبکہ میزبان کے طور ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور ڈاکٹر حسان جہانگیری تھے۔ ڈاکٹر حسان جہانگیری صاحب کے ساتھ ساتھ مجھے بھی یہ موقع ملا کہ ان ملائیشین طلبہ کے ساتھ یہ پانچ دن گزار سکوں۔ ان سے گفتگو کر سکوں۔ اپنے یونیورسٹی و ملکی تعلیمی تجربات، شہری خوشبو، اپنی دھرتی کے رنگ اور علمی و تربیتی حوالوں سے خیالات بانٹ سکوں۔
یہ چند دن گویا وقت کی کتاب میں سنہری حروف سے لکھی ہوئی ایک یاد بن گئے۔ یہ محض ایک تعلیمی دورہ نہ تھا بلکہ دو ملکوں، تہذیبوں، دلوں اور خیالات کے ملاپ کی ایک خوبصورت کہانی تھی جس نے کئی یادگار لمحوں کو جنم دیا۔
سب سے پہلی چیز جس نے دل کو چھوا، وہ ان طلبہ کی سادگی، عاجزی اور سیکھنے کا خلوص بھرا جذبہ تھا۔ کسی بھی موقع پر انہوں نے کسی بھی انتظام پر ہمارے پاکستانیوں کی طرح منہ نہیں بنایا۔ ہر انتظام، وزٹ اور ترتیب کو خوش اسلوبی سے قبول کیا۔ بظاہر زبانیں جدا اور جغرافیے مختلف تھے مگر دلوں کی زبان شاید ہمیشہ ایک ہی ہوتی ہے۔ فاصلے ہزاروں میل کے سہی، مگر گفتگو میں ایک عجیب
سی قربت ایک مانوس سی اپنائیت محسوس ہوتی رہی۔ ایسا لگتا تھا کہ جیسے اجنبی چہروں میں کہیں کوئی پرانا تعلق چھپا بیٹھا ہو۔
ہم نے انہیں ایبٹ آباد یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات سے روشناس کروایا۔ جہاں علمی سرگرمیوں اور تعلیمی ماحول سے وہ خاصے متاثر دکھائی دیے۔ پھر اُنہیں اپنی سرزمین کے ذائقوں سے آشنا کروانے کے لیے مقامی کھانوں کی ضیافت دی گئی۔ ہزارہ کے ذائقوں نے بھی خاموشی سے اپنا تعارف کروایا۔
جب ہم انہیں نتھیاگلی کی پُرفضا وادیوں میں لے گئے تو بادلوں سے لپٹے پہاڑ، صنوبر کی سرگوشیاں اور ٹھنڈی ہواؤں کی مہک شاید ان کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئی۔ فطرت کے اُس حسن نے گویا خاموشی میں بھی کئی باتیں کہہ ڈالیں۔
اسی طرح کامسیٹ ایبٹ آباد، یوتھ ڈویلپمنٹ سنٹر ایبٹ آباد یونیورسٹی اور یتیم خانہ ایبٹ آباد کے دورے بھی اس پروگرام کا ایک خوبصورت اور بامعنی حصہ تھے۔ خاص طور پر یتیم خانے میں جا کر ملائیشین طلبہ کا بچوں سے بے تکلفی سے گھل مل جانا، ان کے ساتھ ہنسنا، کھیلنا اور شفقت سے پیش آنا ایک ایسا منظر تھا جس نے دل کو چھو لیا۔ محبت شاید وہ زبان ہے، جسے ترجمے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ان بچوں کے چہروں پر ابھرتی خوشی اس لمحے کی سب سے خوبصورت تصویر تھی۔
اس پورے ہفتے کے دوران یہ طلبہ ہر ورکشاپ، ہر ایونٹ اور ہر سرگرمی میں غیر معمولی توجہ، انہماک اور دل جمعی کے ساتھ شریک رہے۔ ان کے سوالات میں تجسس تھا، باتوں میں شائستگی اور رویوں میں علم حاصل کرنے کی حقیقی لگن جھلکتی تھی۔
دوسری طرف انہوں نے
بھی ہمیں ملائیشیا کے تعلیمی نظام، ثقافتی روایات، سماجی اقدار اور اپنے طرزِ زندگی کے بارے میں بہت سی دلچسپ اور معلوماتی باتیں بتائیں۔ یوں محسوس ہوا جیسے دو مختلف دنیائیں ایک دوسرے کے سامنے اپنے دل کھول کر بیٹھ گئی ہوں۔
یہ محض ایک رسمی یا وقتی ملاقات نہ تھی، بلکہ دو مختلف معاشروں، دو تہذیبوں اور دو زاویۂ فکر رکھنے والے لوگوں کے درمیان ایک خوبصورت مکالمہ تھا؛ ایسا مکالمہ جس میں احترام بھی تھا، تجسس بھی، اور سیکھنے کی خواہش بھی۔
ایسے کلچرل ایکسچینج پروگرام ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ علم، محبت اور ثقافت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ جب نیتیں صاف اور دل کشادہ ہوں تو چند دنوں کی ملاقات بھی عمر بھر کی یاد، دوستی اور باہمی احترام کا رشتہ بن جاتی ہے۔
میں دل کی گہرائیوں سے وائس چانسلر ایبٹ آباد یونیورسٹی ڈاکٹر طاہر عرفان صاحب، یونیورسٹی آف ملائیشیا، ترنگانو، ڈاکٹر مقدس اور ڈاکٹر حسان جہانگیری کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہمیں اس خوبصورت تجربے کا حصہ بنایا۔ میری دلی خواہش ہے کہ مستقبل میں بھی اس نوعیت کے پروگرام تسلسل کے ساتھ ہوتے رہیں. تاکہ ہمارے طلبہ دنیا کو صرف کتابوں میں نہیں، بلکہ قریب سے دیکھ سکیں۔ مختلف تہذیبوں کو سمجھ سکیں اور علم کے ساتھ انسانیت کے رشتوں کو بھی مضبوط بنا سکیں۔
سہیل احمد صمیم








