آپ کا سلاماردو تحاریرتحقیق و تنقیدمقالات و مضامین

ڈیوڈ جونز (بغدادی پیر)

تبصرہ نگار : فراق مجروح یوسفزے

ڈیوڈ جونز پشتو ادب کا ایک تاریخی ناول ہے جسے جناب نصیر احمد احمدی نے لکھا ہے اور پشتو زبان میں اس ناول کا نام "بغدادی پیر” رکھا گیا ہے۔ اردو زبان میں اس شاہکار ناول کا ترجمہ محترم ظفر افغان نے کیا ہے آپ نے ناول کا نام "ڈیوڈ جونز” رکھا ہے اور سال 2021ء کو شائع کیا گیا ہے۔ یہ ناول نصیر احمد احمدی کے بہترین ناولوں میں سے ایک ہے۔ اس ناول میں ڈیوڈ جونز ـــــ جو کہ برطانیہ کا ایک جاسوس ہے ـــــ کی کردار کشی کی گئی ہے۔ اس ناول میں افغان بادشاہ حبیب اللہ خان کا بیٹا غازی امان اللہ خان کی حکومت کے بہت سے پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے اور کس طرح ڈیوڈ جونز اور ان کے ساتھی جاسوس مل کر ان کی حکومت کو ناکام بنانے کی سعی کرتے، یہ سب اس ناول میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

ناول نگار
نصیر احمد احمدی فتح اللہ احمدی کے بیٹے تھے، جو 1974ء میں صوبہ غزنی کے ضلع قراباغ میں پیدا ہوئے۔ نصیر صاحب نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقائی اسکول میں حاصل کی پھر آپ ایک مزدور کی حیثیت سے ایران گئے اور وہاں دو سال تک مزدوری کی اور کافی عرصے کے بعد جب وطن واپس آئے تو آپ نےbaghdadi peer اپنی تعلیمی سلسلہ جاری رکھا۔ آپ بی بی سی ریڈیو سے بھی منسلک رہے اور ریڈیو کے لیے بہت سے فیچر بھی لکھیں ہیں۔ لیکن بعد میں آپ کا رجحان ناولوں کی جانب ہوا اور آپ نے پشتو زبان میں جو ناولیں تخلیق کیے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ آپ بسیار نویس تھے لیکن ان کے ناولوں میں فن کی کمزوری نہیں پائی جاتی بلکہ ان کو فکر و فن پر کافی عبور حاصل تھا بالفاظ دیگر ان کے ناولوں میں اعلیٰ فکر اور اعلیٰ فن دونوں پائے جاتے ہیں۔ آج کل موصوف کے ناولوں پر طالب علم ایم فل کی ڈگریاں حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے ناولوں میں ” خون کار، بڑبوکے (حباب)، د غنڑے زالہ(نسجِ عنکبوت)،‌ نيکہ (دادا)، جُوجُو، ٹال (جھولا)، اخ وطنہ(آہ میرے وطن)” وغیرہ شامل ہیں۔ پشتو ادب کا یہ چراغ 2021ء کو 47 سال کی عمر میں بجھ گیا۔

مترجم اور ترجمہ:

ظفر افغان جن کا تعلق کوئٹہ بلوچستان سے ہیں۔ میں نے موصوف کے اور تراجم یا کتب نہیں پڑھیں ہیں البتہ اس ترجمے پر اپنی رائے ضرور دوں گا۔ اس ناول کا ترجمہ نہایت ہی سلیس سادہ اور آسان زبان میں کیا گیا ہے۔ لیکن اس میں کہیں املا کی غلطیاں ہیں تو کہیں انشا کی۔ مذکورہ ترجمہ بامحاورہ ہے نہ روزمرہ کے عین مطابق۔اور نہ ہی موصوف نے ضرب الامثال کا استعمال کیا ہے بلکہ محض لفظی ترجمہ کہا جا سکتا ہے۔ لیکن جو راونی اور مٹھاس اس نثر میں ہے وہ قاری کو مایوس نہیں ہونے دیتا۔

خلاصہ
سوزن اپنی ماں لارا سے بات کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ہمیں اب لندن کے شور شرابے سے دور رہنا چاہیے۔ لارا کی مان اپنے بیٹے ٹام کو صدا دیتی ہے مگر ٹام اپنی ماں کو جواب نہیں دیتا۔ لارا سوزن سے مخاطب ہو کر کہتی ہے: "بھائی کہاں ہے تیرا ؟” سوزن اپنے والد سے پوچھ لیتی ہے وہ تہہ خانے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ سوزن چراغ روشن کر کے اپنے بھائی کو تہہ خانے میں ڈھونڈنے چلی جاتی ہے جہاں پر سوزن کو ایک پرانی موٹی کتاب مل جاتی ہے۔ وہ کتاب اٹھاتی ہے اور اس پر ہاتھ پھیر کر صاف کر لیتی ہے۔ یہ کتاب سوزن کے پردادا ڈیوڈ جونز کی یاداشتیں ہوتی ہیں۔ جسے وہ اپنے والد کے کہنے پر دوران سفر ملاحظہ کرنے لگتی ہے۔
ڈیوڈ جونز کے یادداشتوں میں لکھا ہوتا ہے کہ ڈیوڈ جونز اور دیگر جاسوس پوری کوشش کرتے ہیں کہ امیر امان اللہ خان کی حکومت کو حیلے بہانوں سے کمزور کیا جو وہ دن بہ دن ترقی کر رہا ہے انہی حکومت کو پسپا کیسے کریں۔ یہ لوگ مختلف حربے اپنانے کی سعی کرتے ہیں جس میں کبھی ہندو اور سکھوں کو لڑاتے ہیں تو کبھی ہندوستان کی مسلمانوں کو افغانستان جانے پر مجبور کرتی ہے اور جب یہ لوگ افغانستان جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں تو یہ جاسوس ان کے ساتھ اپنے لوگ بھی افغانستان کی ہجرت میں بھیجتے ہیں تاکہ یہ لوگ وہاں کے لوگوں کو بادشاہ امان اللہ خان کے خلاف بلوا کریں۔
جب ان لوگوں کا ہر قسم کا حربہ ناکام ہوتا ہے تو پھر ڈیوڈ جونز اپنے بالا آفسر (چانسلر) سے ملتا ہے اور انھیں پورے حالات سے واقف کرتا ہے۔ اسی وقت ڈیوڈ جونز کی حجامت تھوڑی بڑی ہوتی ہے تو چانسلر انھیں بڑھی داڑھی رکھنے کے لیے کہتا ہے ویسے بھی ڈیوڈ جونز کا شکل تقریباً پشتونوں سے ملتا جلتا ہے۔ جب ان کی داڑھی شریعت کے مطابق ہوجاتی ہے تو انھیں دیگر جاسوس سمیت دینی تربیت دی جاتی ہے اور تمام جاسوسوں کو قدم شاہ، پیر کرم شاہ، مدینے کا خواجہ یعنی ہر نام کے ساتھ پیر، خواجہ، خلیفہ اور حضرت وغیرہ کے اسماء لگائے جاتے ہیں اور ڈیوڈ جونز کو "پیر بغدادی” کا نام دیا جاتا ہے۔
انگریز اپنے ان جعلی پیروں کو جن کی تعداد تقریباً 180 ہوتی ہے ان کو چالیس گروہ میں تقسیم کیا جاتا ہے اور مختلف علاقوں میں بھیج دیے جاتے ہیں۔ ان میں قدم شاہ اور پیر بغدادی کو ڈیورنڈ لائن کے قریب علاقہ میں بھیجے جاتے ہیں تاکہ یہ لوگ وہاں کے لوگوں پہ عبور حاصل کریں۔ یہ دونوں جاسوس ایک غار کا انتخاب کرتے ہیں اور وہاں پر لاؤڈ اسپیکر کا انتظام بھی۔ جس سے غار میں موجود پیر بغدادی سو میٹر کی دوری سے اپنے ساتھی جاسوس کی باتیں سنتا ہے اور جو لوگ قدم شاہ سے باتیں کرتے ہیں وہ پیر بغدادی سنتا ہے اور جب پیر بغدادی کسی سے غار میں ہم کلام ہوتا ہے تو قدم شاہ ان کے فریب کو سمجھ لیتا ہے۔ اسی اثنا میں ایک اٹھارہ سالہ چرواہا اپنی بکری کے بچے کو ڈھونڈتا ہوا قدم شاہ کے پاس پہنچتا ہے جس کو قدم شاہ نے چھپایا ہے۔ چرواہا ان سے بکری کے بچے کے بارے میں پوچھتا ہے تو وہ چرواہے کو بتاتا ہے کہ اوپر غار میں پیر بغدادی بیٹا ہے انہیں غیب کا علم ہے وہ آپ کی بکری کے بچے کو غائبانہ ڈھونڈ نکالے گا وہ جاتا ہے اور پیر بغدادی اپنا فریب شروع کرتا ہے اور بکری کے بچے کو پکارتا ہے اور قدم شاہ اس بچے کو غار میں چھوڑ دیتا ہے جس سے وہ چرواہا مرعوب ہوکر پورے گاؤں کو بتاتا ہے۔
اس طرح یہ چرواہا اپنے تین بزرگ ساتھ لیے آتا ہے بزرگ یعنی خانہ بدوش تو پہلے بغدادی پیر کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن جب پیر بغدادی انھیں وہ ساری باتیں بتاتا ہے جو ان لوگوں نے نیچے اسپیکر کے پاس ایک دوسرے کو بتائے تھے تو انھیں بہت حیرانی ہوتی ہے اور پیر کے کرامتوں کو تسلیم کرتے ہیں اور ان سے معافی مانگتے ہیں۔ پھر یہ خانہ بدوش دوبارہ پیر بغدادی کے پاس چلے آتے ہیں اور ساتھ ہی باز خان نامی خانہ بدوش بھی ہوتا ہے۔ پیر بغدادی ان سب کے مسائل اپنی جھوٹی کرامت سے حل کرتے ہیں اور پھر باز خان سے مخاطب ہوتا ہے۔ باز کے پاس پرانی تہذیب والا سکہ ہوتا ہے جسے وہ پیر بغدادی کو دکھاتا ہے اور باز خان پیر بغدادی سے اس سکے کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کی استدعا کرتا ہے پیر بغدادی کا نظر جب سکے پہ پڑتا ہے تو وہ جانچ لیتا ہے کہ سکہ کتنا قیمتی ہے کیوں یہ سکہ سونے کا بنا ہوتا ہے تو وہ باز کو اپنی کرامت کے توسط سے بتاتا ہے کہ جہاں سے آپ نے سکہ اٹھا ہے وہاں محض سانپوں اور جنات کے سوا کچھ نہیں۔ پیر بغدادی ان سے مزید معلومات حاصل کرتا ہے اور باز خان کو اسی جگہ جانے سے منع کرتا ہے اور خود اسی سونے کی سکوں والی گنج کو قبضے میں لے لیتا ہے اس طرح اپنے جھوٹے کرامات سے لوگوں میں اپنے آپ کو مشہور کرتا ہے۔ پیر بغدادی ایسے لوگوں کی تلاش میں ہوتا ہے جس کے اثر رسوخ پورے علاقے پر ہوں اور اس طرح کے ایک دو خوانین انھیں مل جاتے ہیں۔ پیر بغدادی جھوٹی کرامت کی مدد سے ان کی مجبوریاں دور کرتا ہے۔
پھر دھیرے دھیرے وہ دشت ــ جہاں پیر بغدادی کا ٹھکانہ ہوتا ہےــ آباد ہوتی ہے اور وہاں پر ہوٹلیں اور دکانیں بن جاتی ہیں۔ پیر بغدادی کے ہاں دم چُپ کے لیے گروہ در گروہ لوگ آتے ہیں اور پیر بغدادی ان کے لیے تعویذ لکھتے ہیں پھر پیر صاحب ان آنے والے لوگوں کے لیے ایک لنگر چلاتا ہے جو اصل میں انہیں سادہ لوح پشتونوں کے نذرانوں سے چلتا ہے جن میں ایک ہی وقت پر دھائی سو لوگ سیر ہوتے ہیں اور ان لوگوں کا عقیدہ ہوتا ہے کہ اتنا بڑا لنگر انسانوں کی بس کی بات نہیں یہ ضرور جنات چلا رہے ہوں گے۔ پھر اسی اثنا میں دو اور برطانوی جاسوس ڈیوڈ جونز کا کام کرتے ہوئے ان سے ملنے رات کو آتے ہیں اور ڈیوڈ جونز ان سے امان اللہ خان کی حکومت پر بحث کرتا ہے وہ انہیں بتاتے ہیں کہ بعض جعلی پیروں نے اپنی ڈیوٹی نہایت ہنرمندی کے ساتھ نبھائی ہے لیکن امان اللہ خان کی قراردادوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے انہوں نے معدنیات پر بھی کام شروع کیا ہے اور صنعت بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ کابل شہر میں لوکل ریل گاڑی چل رہی ہے اور سینکڑوں نوجوانوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے فرانس، جرمنی اور ترکی بھیجے جا چکے ہیں۔
پیر بغدادی کا پورے علاقے پر تسلط ہوتا ہے اور سادہ لوح پشتونوں کا عقیدہ اس قدر تک پختہ ہوتا ہے کہ جب یہ لوگ آسماں میں کوئی کبوتر بھی دیکھتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ پیر بغدادی ہیں اور اپنے مریدوں کے حال احوال دریافت کرنے کے لیے کبوتر بن کر اڑ رہا ہے۔ پیر بغدادی آہستہ آہستہ امان اللہ خان کو لوگوں کے درمیان بدنام کرنے کی سعی کرتا ہے یعنی لوگوں کے سامنے پہلے تو ان کی تعریف و توصیف کرتا ہے پھر اگر مگر لگا کر کہتا ہے کہ اگر داڑھی رکھ لیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ پھر خواتین کی تعلیم پر فتویٰ جاری کرتا ہے اور سادہ لوح پشتون ان کی ہر بات پر آمین کہتے ہیں۔ امان اللہ خان نے جن بچیوں کو اعلیٰ تعلیم دینے کے لیے باہر ملکوں کو بھیجیں تھیں پیر بغدادی مذہب کو ہتھیار بناکر ان بچیوں کے بارے پروفیگنڈہ کرتا ہے اور ان بچیوں کے بارے میں ایک غلط رجحان لوگوں کے درمیان عام کرتا ہے جو کہ لوگوں اور امان اللہ خان کے درمیان میں نفاق پیدا کرنے کی ایک عمدہ سازش ثابت ہوتی ہے۔ اس کے بعد عبداللہ نامی ایک نوجوان اپنے دادا کے ساتھ پیر بغدادی سے ملنے آتا ہے اور وہ پیر بغدادی کے مکر و فریب سے واقف ہوجاتا ہے اور لوگوں کو ان کی سچائی بتانے کی سعی کرتا ہے لیکن لوگ ہرگز پیر صاحب کے خلاف کچھ سننے کو آمادہ نہیں ہوتے۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ہیں۔ لیکن عبداللہ کو ان لوگوں پر شک ہوتا ہے اور وہ رات کو دوبارہ آتا ہے اور اس اسپیکر کو ڈھونڈ نکالتا ہے جس کے ذریعے سے پیر بغدادی کو غیب کا علم ہوتا ہے۔ وہ پیر بغدادی کو بتاتا ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ انگریزوں کے ایجنٹ ہو اور یہاں امان اللہ خان کی حکومت کو ناکام بنانے کی کوشش میں مصروف ہو پیر بغدادی اور قدم شاہ انہیں پیسوں کی پیشکش کرتا ہے لیکن وہ بضد ہوتا ہے کہ میں آپ لوگوں کو بے نقاب کر کے رہوں گا۔ پیر بغدادی اور قدم شاہ دونوں عبداللہ کا گلا گھونٹتا ہے اور پھر اسی غار میں اسے دفناتا ہے۔ ان کے گھر والے پیر بغدادی سے مدد مانگنے کے لیے آتے ہیں تاکہ عبداللہ کا پتہ لگا سکیں لیکن پیر بغدادی انھیں یہ کہہ کر دلاسہ دیتا ہے کہ وہ آپ لوگوں سے خفہ ہوکر واپس تعلیم کے لیے ترکی گئے ہیں۔
پیر صاحب غار سے تنگ آکر ملک زونڈی خان کے مہمان خانے میں ٹھہرتا ہے اور وہاں مسجد میں اکثر لوگوں کی با جماعت امامتی کرتا ہے۔ وہاں جاکر ان کو لوگوں کے رویوں سے پتہ چلتا ہے کہ اب لوگ امان اللہ خان سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ ملک زونڈی خان کے مہمان خانے میں پیر صاحب اسی نصاب کو دیکھتا ہے جسے امان اللہ خان نے اپنے نئے پود کے لیے بنائی ہے وہ رونے لگتا ہے اور ایک جھوٹا خواب لوگوں کو بیان کرتا ہے کہ میں نے خواب دیکھا جس میں قرآن مجید یہاں سے جا رہا تھا میں نے وجہ دریافت کی تو قرآن مجید نے کہا کہ یہاں یہ نصابی کتب ہے جس کی وجہ سے میری قدر ختم ہوگئی ہے اب میں اسی جگہ نہیں رہ سکتا۔ زونڈی خان اپنے نوکر سے کہتا ہے کہ ان نصابی کتب کو یہاں سے دور پھینکو اور اسی طرح پورے گاؤں کی نصابی کتب ضائع کی جاتی ہے۔ اس کے بعد پیر صاحب کو انگریز حکومت ایک کاٹن بھیجتا ہے جن میں امان اللہ خان اور اس کی اہلیہ کے ننگے تصاویر نہایت مہارت سے بنائے گئے ہوتے ہیں پیر بغدادی ان تصویروں کو لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں اس طرح لوگوں کے دلوں میں امان اللہ خان سے نفرت جنم لیتی ہے۔ اس کے بعد چانسلر انھیں خبردار کرتا ہے کہ امان اللہ خان کی حکومت نے ہمارے بہت سے جاسوسوں کو پکڑے ہیں اور انھیں پھانسی کیے گئے ہیں لہذا آپ یہاں سے آج ہی روانہ ہو جائیں جب یہ لوگ غار سے نکلتے ہیں تو افغان فوجی ان جاسوسوں کو مع ثبوت گرفتار کرتے ہیں لیکن ان جاسوسوں اور افغان فوج کے درمیان سادہ لوح پشتون آگے آتے ہیں۔ پشتونوں اور افغان فوج کے درمیان لڑائی ہوتی جن میں افغان فوج کے جوان شہید ہوتے ہیں اور پشتون ان جاسوسوں کو خفیہ راستوں سے وہاں سے نکالتے ہیں۔ یہ جاسوس وہاں سے نکلتے ہی انگریزوں کے فوجی کیمپ پہنچ جاتے ہیں۔ پھر وہاں سے پشاور جاتے ہیں اور پشاور پہنچتے ہی پیر بغدادی کلین شیو کرتا ہے۔ چانسلر ڈیوڈ جونز کو بتاتا ہے کہ افغانستان میں جاسوسوں نے امان اللہ خان کی حکومت پر تقریباً تیل چھڑک دیا ہے اور اب بس آگ لگانے کا انتظار ہے۔ امان اللہ خان کی حکومت کو آگ لگانے کے لیے انگریز سرکار ایک ڈاکو کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس ڈاکو کا نام حبیب اللہ کلکانی ہے جو کہ بچہ سقاؤ کے نام سے مشہور ہے۔
بچہ سقاؤ کو کسی انگریزوں کے جعلی پیر نے کہا تھا کہ آپ بہت جلد افغانستان کے بادشاہ بننے والے ہو۔ بچہ سقاؤ نے اس بات کو سچ مان لیا اور موقع کی تاک میں تھا کہ کب امان اللہ خان سے حکومت لیا جائے۔ اس کے بعد انگریزوں نے ڈیوڈ جونز کو دوبارہ جاسوسی کرنے کے لیے وہاں بغدادی پیر بنا کر بھیجا۔ بغدادی پیر اسی علاقے میں جاتا ہے جہاں ان کے مرید رہتے پھر پیر صاحب بچہ سقاؤ سے بھی ملاقات کرتا ہے اور ان کو امان اللہ خان کے خلاف اور بھی اکساتا ہے۔ ان پڑھ بچہ سقاؤ کو انگریزوں کی پوری حمایت حاصل ہوتی ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے لشکر سمیت امان اللہ خان کی حکومت پر حملہ آور ہوتا ہے اور سب کچھ نیست و نابود کرتا ہے اور پھر اپنی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے۔ امان اللہ خان کے سب ساتھیوں کو پھانسی دیتا ہے اور امان اللہ خان کے ترقیاتی منصوبوں کو فوراً روکتا ہے۔ عورتوں کی تعلیم پر قدغن لگاتا ہے۔ عدالتوں اور ہسپتالوں کو ختم کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ سب کام آج کے بعد پیر اور ملا کریں گے۔ لڑکوں کو درس و تدریس کی اجازت ہوتی ہے لیکن کفریہ مضامین جیسے بیالوجی، فزکس اور کیمسٹری وغیرہ کی اجازت نہیں ہوتی۔ بچے سڑکوں پر بھیک مانگتے ہیں اسی طرح عروج کی طرف گامزن افغانستان زوال سے دو چار ہوتا ہے۔
پھر ایکتیس سال بعد ڈیوڈ جونز اپنی ماں کی میت کو اٹلی لے جاتا ہے اور اٹلی میں اپنی ماں کو سپرد خاک کرتا ہے۔ پھر وہاں ان کو پتا چلتا ہے کہ امان اللہ خان بھی یہی ہے وہ ان سے مل لیتا ہے اور امان اللہ خان سے کہتا ہے کہ میں ڈیوڈ جونز ہوں۔ ان کو امان اللہ خان ہنستے ہوئے کہتا ہے کہ "اہ انگریز ! اب بھی پیچھا نہیں چھوڑ رہے ہو؟” دونوں میں طویل گفتگو ہوتی ہے جن میں امان اللہ خان ایک بار پھر ان منصوبوں کا اجمالی تذکرہ کرتا ہے اور ڈیوڈ جونز کو بتاتا ہے کہ کس طرح میں نے افغانستان کی ترقی کے لیے ایک خاکہ بنایا تھا لیکن خارجی اور داخلی سازشوں نے سب کچھ ختم کردیا۔ امان اللہ خان کی خودداری دیکھیے کہ وہ اٹلی کی حکومت کی ہر قسم کی تعاون سے انکار کرتا ہے اور وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ ایٹلی کے ایک غریب ترین علاقے میں رہ رہا تھا۔ اس کے بعد امان اللہ خان کا انتقال ہو جاتا ہے۔ ڈیوڈ جونز کی یاداشتیں اتنی ہی ہوتی ہے۔
اس کے بعد سوزن اپنا لیپ ٹاپ اٹھا کر انٹرنیٹ پر امان اللہ خان کو سرچ کرتی ہے اور مختلف ویب سائٹ کھول کر ملاحظہ کرتی ہے، مختلف لوگوں کی رائے کو پڑھ لینے کے بعد سوزن کو پتا چلتا ہے کہ غازی امان اللہ خان دنیا کا ایک بہترین لیڈر تھا۔ اس طرح سوزن 2016ء کی افغانستان کی تصاویر اپنے لیپ ٹاپ کے سرچ کر کے دیکھتی ہے کہ ہر جگہ دھماکے، بھوک و افلاس، ویران گھر اور سنسان بازار۔۔۔۔۔!
سوزن کتاب بند کر کے خیمے کی طرف جاتی ہے تو اس کے ابو اس سے خوشی اور فخریہ انداز میں کہتا ہے: "کیسا لگا!کیا تمھیں اپنے پردادا کے کارناموں پر فخر ہوا؟”
سوزن نے اپنے والد کی طرف دیکھا۔۔۔
اس کے والد نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا تم رو رہی ہو کیا؟
سوزن بغیر کوئی جواب دیے واپس خیمے سے نکل جاتی ہے۔

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button