19 نومبر, 2025

    نکلے تھے کسی مکان سے ہم

    احمد مشتاق کی ایک اردو غزل
    27 نومبر, 2019

    ہنس کے فرماتے ہیں

    امیر مینائی کی اردو غزل
    14 مئی, 2024

    آج تو اور کے سینے سے

    ناصر زملؔ کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    بے نشاں رہتے بے نشاں ہوتے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    18 دسمبر, 2019

    بے انتہائی شیوہ ہمارا

    جون ایلیا کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    محمل نشیں ہیں کتنے خدام یار میں یاں

    میر تقی میر کی ایک غزل
    29 دسمبر, 2019

    اسی قبا میں بسر اک زمانہ کر دیا ہے

    سعود عثمانی کی ایک اردو غزل
    16 جنوری, 2020

    پیروں میں زنجیریں ڈالیں

    شکیب جلالی کی ایک اردو غزل
    15 ستمبر, 2019

    اگر میں خواب کی تشکیل تک پہنچ جاؤں

    شجاع شاذ کی ایک اردو غزل
    30 جنوری, 2020

    ایک موہوم سی امید پہ چل پڑتا ہے

    ایک اردو غزل از دلشاد احمد
    11 مارچ, 2025

    قسمت عجیب کھیل دکھاتی

    ایک اردو غزل از لتا حیا
    27 جون, 2020

    نہ مائل آرسی کا رہ سراپا درد ہو گا تو

    میر تقی میر کی ایک غزل
    25 مارچ, 2025

    رنج فراق یار میں رسوا نہیں ہوا

    ایک غزل از منیر نیازی
    5 مارچ, 2020

    وہ جان بوجھ کے مجھ کو اداس رکھتا ہے

    دانش نقوی کی ایک اردو غزل
    3 دسمبر, 2019

    بُھولا ہُوا افسانہ

    حفیظ جالندھری کی اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button