- Advertisement -

چادر – موج – کرامات پہن لی میں نے

ایک اردو غزل از عاطف کمال رانا

چادر – موج – کرامات پہن لی میں نے
جسم تنہا تھا ملاقات پہن لی میں نے

لب سے جھڑتے ہوئے شہتوت تو پتھر کے تھے
بات ریشم کی تھی اور بات پہن لی میں نے

اب تو رکتی ہی نہیں مجھ میں یہ آتش بازی
دیکھ لیجے شب – بارات پہن لی میں نے

یک بہ یک ہونے لگا شہر میں اک مور کا رقص
دفعتا چشم – طلسمات پہن لی میں نے

سامنے اور بھی ملبوس نما بیٹھے تھے
تجھ کو دیکھا تو تری ذات پہن لی میں نے

اسی دوران کہ وہ میری کہانی سنتا
ناگہاں گردش – حالات پہن لی میں نے

کم سے کم کوئی ستارہ تو نظر آئے مجھے
اس کے کہنے سے اگر رات پہن لی میں نے

رنگ کچا ہے مرے دشمن – جاں کا عاطف
یہ خبر ملتے ہی برسات پہن لی میں نے

عاطف کمال رانا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو غزل از عاطف کمال رانا