آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریعاطف کمال رانا

محو – گریہ ہے فلک جانے کہاں گم ہو گئیں

ایک اردو غزل از عاطف کمال رانا

محو – گریہ ہے فلک جانے کہاں گم ہو گئیں
تیز بارش میں ہماری چھتریاں گم ہو گئیں

یہ اچانک کیا پڑی افتاد اہل – باغ پر
پھول سوکھے پڑ گئے اور تتلیاں گم ہو گئیں

آئینہ زادی تری آنکھوں کے جادو کیا ہوئے
اے حسینہ کیوں تری انگڑائیاں گم ہو گئیں

ماں نہیں موجود تو بچھڑے ہوئے بچوں کا دکھ
اس شجر سے پوچھو جس کی ٹہنیاں گم ہو گئیں

اتنا مشکل بھی نہیں ہے چومنا مہتاب کو
مسئلہ یہ ہے کہ میری سیڑھیاں گم ہو گئیں

تیرے ہونٹوں سے بھی تیرے قہقہے جاتے رہے
میرے ہاتھوں سے بھی میری تالیاں گم ہو گئیں

ورنہ یہ دولت پڑی رہتی تھی میری جیب میں
رش میں آتے ہی مری تنہایاں گم ہو گئیں

چل بےنہیں سکتا تھا عاطف میں سہارے کے بغیر
پھر اچانک کیوں مری بیساکھیاں گم ہو گئیں

عاطف کمال رانا

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button