وقت کے پندار سے نکلا نہیں
دل ابھی آزار سے نکلا نہیں
عشق اول کی کسک ہے آج بھی
سچ کہو اس بار سے نکلا نہیں
نت نۓ ملبوس پہنے آدمی
جسم بدبودار سے نکلا نہیں
دور جدت کے مرے فرہاد سے
در کسی دیوار سے نکلا نہیں
چپ مناسب سمجھی سو چپ ہو گیا
حل جو اس گفتار سے نکلا نہیں
رکھ دیا اس کو دعا کے ہاتھ پر
کام جب اوزار سے نکلا نہیں
بات کی پھر اس نے میری ذات پر
لگتا ہے آزار سے نکلا نہیں
جب ہمارے ہاتھ میں آیا تو پھر
داٸرہ پر کار سے نکلا نہیں
عشق میں رقصاں سرِ منصور کو
دیکھتا ہو ں دار سے نکلا نہیں
ایک میں سود و زیاں،سے بےنیاز
اک تو کارو بار سے نکلا نہیں
وصال عباسی








