- Advertisement -

صدائیں دیتے ہوئے اور خاک اڑاتے ہوئے

رحمان فارس کی ایک غزل

صدائیں دیتے ہوئے اور خاک اڑاتے ہوئے

میں اپنے آپ سے گزرا ہوں تجھ تک آتے ہوئے

پھر اس کے بعد زمانے نے مجھ کو روند دیا

میں گر پڑا تھا کسی اور کو اٹھاتے ہوئے

کہانی ختم ہوئی اور ایسی ختم ہوئی

کہ لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے

پھر اس کے بعد عطا ہو گئی مجھے تاثیر

میں رو پڑا تھا کسی کو غزل سناتے ہوئے

خریدنا ہے تو دل کو خرید لے فوراً

کھلونے ٹوٹ بھی جاتے ہیں آزماتے ہوئے

تمہارا غم بھی کسی طفل شیرخار سا ہے

کہ اونگھ جاتا ہوں میں خود اسے سلاتے ہوئے

اگر ملے بھی تو ملتا ہے راہ میں فارسؔ

کہیں سے آتے ہوئے یا کہیں کو جاتے ہوئے

رحمان فارس

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
رحمان فارس کی ایک غزل