تازہ گوشت یا حرام گوشت: پاکستان میں صارف کا شعور ضروری
پاکستان میں گوشت ہماری روزمرہ خوراک کا اہم حصہ ہے، مگر بدقسمتی سے ہر مارکیٹ میں معیار یکساں نہیں ہوتا۔ اکثر خریدار کو خود فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ گوشت تازہ ہے یا کسی طرح کا حرام یا مردہ گوشت فروخت کیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ صرف ذائقہ یا قیمت پر نہیں بلکہ صحت اور مذہبی شعور سے بھی جڑا ہوتا ہے۔
بازار میں گوشت خریدتے وقت صارفین کو کئی علامات پر غور کرنا چاہیے۔ اگر قیمت غیر معمولی طور پر کم ہو، قصائی آنکھ میں آنکھ ڈالنے سے کترائے، یا گوشت شاپر میں جلدی سے ڈال دے، تو یہ مشکوک ہونے کے واضح اشارے ہیں۔ بعض اوقات قصائی جان بوجھ کر معیار چھپانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ کم قیمت پر زیادہ منافع حاصل کیا جا سکے۔ ایسے اشارے نظرانداز کرنا نہ صرف صحت کے لیے خطرناک ہے بلکہ صارف کے لیے مالی نقصان کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
فوڈ اتھارٹی آف پاکستان اور صوبائی فوڈ اتھارٹیز کے مطابق تازہ اور معیاری گوشت کی شناخت کے چند اہم اصول ہیں۔ گوشت کا رنگ ہلکا سرخ ہونا چاہیے، خوشبو نرم اور تازگی بھری ہو۔ سطح چمکدار اور نمی برقرار رکھتی ہو، خشک یا لزدار نہ ہو۔ اسٹوریج مناسب ہونا لازمی ہے، یعنی گوشت ٹھنڈے یا فریز میں محفوظ رکھا گیا ہو۔ علاوہ ازیں، ذبح کا طریقہ شرعی اصولوں کے مطابق ہونا بھی ضروری ہے تاکہ گوشت نہ صرف صحت مند بلکہ حلال بھی ہو۔
صارفین کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ گوشت خریدتے وقت اپنی حسِ تشخیص استعمال کریں۔ کسی بھی مشکوک گوشت کو فوراً فوڈ اتھارٹی یا متعلقہ محکمہ صحت کو رپورٹ کرنا چاہیے۔ مارکیٹ میں معیار اور صحت کو ترجیح دینا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ قیمت یا سہولت کے چکروں میں معیار کو نظرانداز کرنا مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔
تازہ گوشت نہ صرف جسمانی توانائی اور غذائیت فراہم کرتا ہے بلکہ بیماریوں سے بچاؤ میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ مردہ یا غیر معیاری گوشت میں بیکٹیریا اور دیگر جراثیم کی موجودگی بیماریوں جیسے فوڈ پوائزننگ، معدے کی خرابی، اور دیگر انفیکشنز کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، اسلام میں حرام گوشت کھانا نہ صرف جسمانی نقصان پہنچاتا ہے بلکہ روحانی نقصان کا سبب بھی بنتا ہے۔
پاکستان میں صارفین کے شعور اور احتیاط کی اشد ضرورت ہے۔ ہر شہری کو چاہیے کہ وہ اپنے خاندان کی صحت اور ایمان کی حفاظت کے لیے گوشت کے معیار پر مکمل توجہ دے۔ معتبر دکاندار سے خریداری کریں، مشکوک گوشت سے دور رہیں اور مارکیٹ میں معیار کی کمی پر آواز اٹھائیں۔ یہ شعور نہ صرف بیماریوں سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے بلکہ غیر حلال گوشت کی مارکیٹ کو بھی کمزور کرتا ہے، جس سے مستقبل میں محفوظ اور معیار کے مطابق گوشت کی فراہمی ممکن ہو سکتی ہے۔
آخر میں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تازہ گوشت زندگی کی علامت ہے، جبکہ مردہ یا غیر معیاری گوشت بیماری اور نقصان کی علامت۔ صحت مند زندگی اور ایمان کی حفاظت کے لیے ہر شہری کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے کھانے میں معیار اور تازگی کو ہمیشہ ترجیح دے
یوسف صدیقی







