آپ کا سلاماسلامی گوشہسہیل احمد صمیمنعتیہ کلام ﷺ
بہ فیضِ نورِ خدا جل اُٹھا حرا کا چراغ
ایک اردو نعتﷺ از وصال عباسی
بہ فیضِ نورِ خدا جل اُٹھا حرا کا چراغ
حرا کے نور سے چمکا رہِ خدا کا چراغ
رسولِ پاک کا در ایک ایسا در کہ جہاں
فنا کے تیل ہی سے جلتا ہے بقا کا چراغ
دیارِ صاحبِ کوثر میں جگمگا رہا ہے
کہیں سبیلِ کرم تو کہیں عطا کا چراغ
گداۓ قبلہِ لطف و عطا ہوں اِس خاطر
خلافِ تند ہَوا کافی مجھ گدا کا چراغ
تمام عمر رہوں میں درِ نبی کا غلام
تمام عمر چمکتا رہے وفا کا چراغ
ازل سے نام چلا آ رہا ہے رب کے ساتھ
ابد تلک رہے گا شاہِ دوسرا کا چراغ
درود جھولی میں میری، لبوں پہ میرے سلام
مرے لٸے ہے یہی بس مری دوا کا چراغ
تبھی تو مٹتے چلے جاتے ہیں اندھیرے صمیم
ہے روشنی کی کرن ان کے نقشِ پا کا چراغ
شاعر: سہیل احمد صمیم
کتاب: الی النور








