- Advertisement -

وقت چپ سا کھڑا ہے رستے میں

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

وقت چپ سا کھڑا ہے رستے میں
دشت کیسا پڑا ہے رستے میں

آپ کا غم ہو یا زمانے کا
کوس جو ہے کڑا ہے رستے میں

سنگ ریزوں کو دیکھنے والو
دل سا ہیرا پڑا ہے رستے میں

کوئی کانٹا ہے یا کوئی گل ہے
دل کا دامن اڑا ہے رستے میں

اس طرح چپ کھڑے ہیں ہم جیسے
ایک پتھر گڑا ہے رستے میں

دل اگر بجھ گیا تو پھر باقیؔ
ایک کانٹا بڑا ہے رستے میں

باقی صدیقی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
باقی صدیقی کی ایک اردو غزل