15 نومبر, 2019

    جہاں نوردوں کو دنیا میں جو بھی باغ ملا

    سرفراز آرش کی ایک غزل
    27 مئی, 2020

    لمحہ لمحہ وسعتِ کون و مکاں کی سیر کی

    دلاور علی آزر کی اردو غزل
    25 جون, 2020

    پائے خطاب کیا کیا دیکھے عتاب کیا کیا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    4 جنوری, 2020

    تجھ کو دیکھا ہے

    گلزار کی ایک اردو غزل
    3 مارچ, 2020

    میں نے سوچا کچھ ایسا نصاب لکھتے ہیں

    تہمینہ مرزا کی ایک اردو غزل
    22 نومبر, 2019

    یہ سوچا ہے کہ مر جائیں تمہارے وار سے پہلے

    افتخار شاہد کی ایک غزل
    1 اپریل, 2020

    محبت میں دَغا دوں گا

    طارق اقبال حاوی کی ایک اردو غزل
    22 مئی, 2020

    جیسے یہ درد سے بنی ہوئی تھی

    ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
    21 جون, 2020

    کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    17 دسمبر, 2019

    دل سے ہر گزُری بات گزُری ہے

    مجید امجد کی ایک اردو غزل
    15 جون, 2024

    تری جدائی میں یہ دل

    سید کاشف رضا کی ایک اردو غزل
    26 مئی, 2020

    آئینہ توڑ دے رِہا کر دے

    ایوب خاور کی اردو غزل
    30 نومبر, 2019

    عجیب خواب اور عجب خیال دیکھتے ہوئے

    ایک اردو غزل از رفیق لودھی
    27 مئی, 2020

    نئی ترتیب میں لایا گیا مَیں

    دلاور علی آزر کی اردو غزل
    21 مارچ, 2020

    کوئی اپنا تلاش کرتا ہوں

    شجاع شاذ کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button