- Advertisement -

سمے سمے کی خلش میں ترا ملال رہے

فرحت عباس شاہ کی اردو غزل

سمے سمے کی خلش میں ترا ملال رہے
جدائیوں میں بھی یوں عالمِ وصال رہے

انا کی جنگ میں ہم جیت تو گئے لیکن
پھر اس کے بعد بہت دیر تک نڈھال رہے

رہِ جنوں میں یہی زادِ راہ ہوتا ہے
کہ جستجو بڑھے دیوانگی بحال رہے

حسین راتیں بھی مہکیں تمہاری یادوں سے
کڑے دنوں میں بھی پل پل ترا خیال رہے

تو ایک بار ذرا کشتیاں جلا تو سہی
ہے کیا مجال کہ اک لمحہ بھی زوال رہے

فرحت عباس شاہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
اویس خالد کا ایک اردو کالم