25 جون, 2020

    نظر میں طور رکھ اس کم نما کا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    3 جولائی, 2025

    جو روشن ھے

    غنی الرحمٰن انجم کی ایک اردو غزل
    13 فروری, 2020

    ناؤ اس کی ہے جہاں چاہے اتارے مجھ کو

    صدیق صائب کی ایک اردو غزل
    19 فروری, 2026

    ایک آواز لگائی ہے کسی نے مجھ کو

    زین محکم کی ایک اردو غزل
    24 مئی, 2020

    اب تری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو

    شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
    19 مئی, 2020

    تمثیل

    ایک اردو غزل از ناصر ملک
    23 مئی, 2020

    فنا کے دشت میں کب کا اتر گیا تھا میں

    احمد خیال کی اردو غزل
    28 جون, 2020

    کی سیر ہم نے سینۂ یکسر فگار کی

    میر تقی میر کی ایک غزل
    29 ستمبر, 2025

    یہی نہیں کہ فقط ہم ہی

    اعتبار ساجد کی ایک اردو غزل
    14 جنوری, 2020

    یہ جو مجھ پر نکھار ہے سائیں

    رحمان فارس کی ایک غزل
    20 مئی, 2020

    اس شہر میں رسوائی کا سامان بہت ہے

    سعید خان کی اردو غزل
    8 دسمبر, 2025

    حسین چہروں سے غزلیں نکال لیتے ہیں

    مظفرؔ ڈھاڈری بلوچ کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    اٹھ گئے بزم سے میخوار؟ نہیں کوئی نہیں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    اس شوخ سے ہمیں بھی اب یاری ہو گئی ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    7 دسمبر, 2025

    تیر کس کی کماں سے نکلا ہے

    کلیم احسان بٹ کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button