A True Salam To Urdu Literature

Khobsorti Daikhny Wale

Urdu Essay by Jameel Akhter

خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے: سائنسی تحقیق
جمیل اختر
واشنگٹن
March 3, 2009

Parietal lobe
آپ نے یہ محاورہ تو سنا ہو گا کہ خوبصورتی چہرے میں نہیں بلکہ دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہے۔ یعنی ہمیں جو خوبصورت لگے وہی خوبصورت ہوتا ہے۔ اور کسی شاعر نے یہ جو کہا تھاکہ ہر چہرہ کسی کا حبیب ہوتاہے تو شاید اس کی وجہ بھی یہ ہی ہو سکتی ہے کہ دیکھنے والے کی آنکھ فیصلہ کر سکتی ہے کہ اس کے لیے کون خوبصورت ہے۔

یہ بات دل کے بہلانے کو تو صحیح معلوم ہوتی تھی لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ بات دماغ کے بہلانے کو بھی درست ہے۔ یعنی اگر دماغ ٹھیک ٹھاک کام کر رہاہے تو بھی کیا اپنی پسند کا چہرہ خوبصورت سمجھا جا سکتا ہے۔کیوں کہ خوبصورتی کا بہر طور ہر معاشرے میں کوئی خاص معیار ہوتاہے اور اسی پیمانے پر انسان کا دماغ یہ فیصلہ کرتاہے کہ وہ جس معاشرے کا فرد ہے، ا س کے نقطہٴ نظر سے کون واقعی خوبصورت ہے یا کسے واقعی خوبصورت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔اور اس طرح دل چاہے جو بھی کہے یہ فیصلہ دماغ دل کو بتانے کی کوشش کرتا رہتا ہے کہ آپ جس کو خوبصورت سمجھ رہے ہیں وہ آپ کے معاشرے میں خوبصورتی کے دائرے میں آتا ہے یا نہیں۔

لیکن سائنس دان خوبصورتی اور دیکھنے والے کی آنکھ اور دماغ کے تعلق پر کیا کہہ رہے ہیں اس کا اندازہ کریں گے آج ایک سائنسی تحقیق کی روشنی میں۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے سائنس دانوں کی ایک حالیہ ریسرچ سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ یہ بات واقعی درست دکھائی دیتی ہے کہ خوبصورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ہےاور یہ کہ مرد اور عورتین آرٹ یا خوبصورتی کو مختلف انداز سے لیتے ہیں۔اور آرٹ کو سراہتے ہوئے مردوں اور عورتوں کے دماغ مختلف طرح کے ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں۔

سائنس دانوں کو معلوم ہوا کہ دماغ کا وہ حصہ جو پیرائٹل لوب کہلاتا ہے اور جس کا تعلق گردو پیش کی آگاہی سے ہوتاہے۔ پیرائٹل لوب حواسِ خمسہ سے حسیات اکٹھا کرتی ہے، اس کے علاوہ ہندسوں اور ان کے آپسی تعلق کے بارے میں معلومات بھی یہیں محفوظ ہوتی ہیں۔
مردوں اور عورتوں،دونوں کے دماغوٕں میں یہ حصہ اس وقت فعال ہوجاتا ہے جب وہ کسی خوبصورت تصویر یا فوٹو دیکھتے ہیں۔ عورتوں میں دماغ کے دونوں حصے، یعنی دائیں اور بائیں حصوں کے اعصاب متحرک ہوتے ہیں جب کہ مردوں کے صرف دائیں جانب کے اعصاب فعال ہوتے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اس فرق کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ مرد اور خواتین چیزوں کی خوبصورتی کے بارے میں مختلف انداز سے فیصلے کرتے ہیں۔

دماغ کا بایاں نصف کرہ زیادہ تر چیزوں کی قطعی سمت کے بارے میں آگاہ کرتا ہے مثلاً یہ کہ متعلقہ چیزاوپر ہے، نیچے ہے، دائیں ہے یابائیں ہے وغیرہ۔ جب کہ دایاں حصہ چیزوں کا زیادہ پیچیدہ خاکہ بناتا ہے اور کسی بھی چیز کو دیکھتے ہوئے اسے پورے ماحول کے تناظر میں دیکھتا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے سائنس دانوں کی ٹیم نے جس کی قیادت ڈاکٹر فرانسسکو ایالا نے کی، اپنی تحقیق کے دوران دس مردود اور دس عورتوں کو مختلف فن کاروں کی ایسی پینٹنگز اورقدرتی اور شہری مناظر پر مبنی ایسے فوٹودکھائے جو انہوں نے اس سے پہلے نہیں دیکھے تھے۔

شرکا سے کہا گیا کہ ان تصویروں کے بارے میں اپنے تاثرات دیں اور یہ بتائیں کہ آیا وہ انہیں خوبصورت لگیں یا نہیں۔ اس دوران ماہرین نے تجربے میں شامل افراد کےایم ای جی کے ذریعے دماغ میں ہونے والی تبدیلیوں کا مطالعہ کیا۔

نیشنل اکیڈمی آف سائنس کے جریدے میں شائع ہونے والی اس ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ کسی خوبصورت تصویر کے بارے میں ردعمل تین سو سے لے کر نوسوملی سیکنڈ کے انتہائی قلیل وقت میں اپنی انتہائی سطح پر پہنچ گیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوا کہ دماغ کے پیرائٹل حصے کی سرگرمی کاتعلق فوری ادارک کی بجائے چیزکے بارے میں فیصلہ دینے سے تھا۔

پہلے تین سو ملی سیکنڈمیں مردوں اور عورتوں کے دماغ کے ردعمل میں کوئی فرق نہیں تھا لیکن اس کے بعد ان میں ایک نمایاں فرق ظاہر ہوا۔ مردوں کے دماغ کی سرگرمی صرف دماغ کے دائیں حصے تک محدود تھی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ پیرائٹل ا س وقت سے ارتقاپذیر ہوا ہے جب سے چیمپنزی اور انسان مشترکہ جدِامجد سے الگ ہوئے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ مردوں اور عورتوں کے دماغ میں یہ فرق غالباً اس وقت سے ہے جب ابتدائی دور کا جدید انسان ارتقا کے اپنے ابتدائی مرحلے میں تھا۔

ایک امکان یہ بھی ہے کہ یہ فرق غالباً قدیم دور میں جب انسان کا گذر بسر شکار پرتھا، مردوں اور عورتوں کے لیے مخصوص مختلف معاشرتی کرداروں کی وجہ سے پیدا ہوا۔

روایتی طورپر مرد شکار کیا کرتے تھے اور انہیں بھاگتے ہوئے جانوروں کا پیچھا کرنے کے لیے ایسی صلاحیت کی ضرورت تھی جو شکار کو ماحول سے مربوط کر کے دیکھنے میں مدد دے، جب کہ عورتیں پھل اور پودوں کی جڑیں وغیرہ اکی ج کرنے کا کام کرتی ہیں اس لیے انہیں ایسی دماغی صلاحیت درکارتھی جس کا تعلق چیز کی صرف سمت کو سمجھنے سے ہو یعنی وہ اوپر ہے، نیچے ہے، دائیں یا بائیں وغیرہ۔

سائنس دانوں کا کہناہے کہ خواتین میں مردوں کی نسبت یہ رجحان زیادہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے اردگرد کی چیزوں سے آگاہ رہیں جن میں وہ چیزیں بھی شامل ہیں جو بظاہر موجودہ کام کے لیے غیر متعلقہ ہوں۔ جب کہ مرد صرف ان چیزوں پر توجہ دیتے ہیں جو ان کے لیے متعلقہ ہوں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عورت اور مرد وں کے دماغوں میں یہی فرق خوبصورتی کے بارے میں ان کے ادراک میں فرق پیدا کرتا ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.

Recommended Salam
An Urdu essay by Rizwan Ahmed