1 مارچ, 2020

    کیا سمجھتے ہو جناب

    تہمینہ مرزا کی ایک اردو غزل
    20 مئی, 2020

    وہ علم میں جس کے اول سے ہر رازِ نہانِ ہستی ہے

    ایک اردو غزل از احسان دانش
    19 نومبر, 2019

    تجھ کو پورا نہیں ملا ہوں میں

    افتخار شاہد کی ایک اردو غزل
    23 اپریل, 2022

    بغیر بولے مرا مدعا سمجھتا ہے

    ایک اردو غزل از شہلا خان
    15 مئی, 2020

    جو زندگی تھی آج کل وہ زندگی نہیں رہی

    ایک اردو غزل از صغیر احمد صغیر
    6 جنوری, 2023

    جس نے میرا دل دکھایا دیر تک

    غزل بقلم محمد ولی اللّٰہ ولی
    19 ستمبر, 2025

    میں کسے سنا رہا ہوں

    اعتبار ساجد کی ایک اردو غزل
    5 جنوری, 2026

    جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے

    آصف الدولہ کی ایک اردو غزل
    14 اپریل, 2020

    صبح تک بے طلب میں جاگوں گا

    زبیر قیصر کی ایک اردو غزل
    5 اپریل, 2022

    محبوب تیرا عشق

    سلطانہ ناز کی ایک اردو غزل
    8 مارچ, 2026

    میں خوش ہوا کہ بود میں رکھا گیا مجھے

    فقیہ حیدر کی ایک اردو غزل
    15 مئی, 2020

    یہی ہے عشق کہ سر دو مگر دہائی نہ دو

    خورشید رضوی کی ایک اردو غزل
    30 جنوری, 2022

    اگرچہ بہت در بدر ہو گیا ہوں

    ایک اردو غزل از سلیم فائز
    20 جون, 2020

    لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا

    داغ دہلوی کی اردو غزل
    4 جون, 2026

    تاروں کی چلمنوں سے کوئی

    اردو غزل از بشیر بدر

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button