احمد فرازاردو غزلیاتشعر و شاعری

یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے

احمد فراز کی ایک اردو غزل

یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے

وہ بت ہے یا خدا دیکھا نہ جائے

یہ کن نظروں سے تُو نے آج دیکھا

کہ تیرا دیکھنا دیکھا نہ جائے

ہمیشہ کے لئے مجھ سے بچھڑ جا

یہ منظر بارہا دیکھا نہ جائے

غلط ہے جو سنا، پر آزما کر

تجھے اے بے وفا دیکھا نہ جائے

یہ محرومی نہیں پاسِ وفا ہے

کوئی تیرے سوا دیکھا نہ جائے

یہی تو آشنا بنتے ہیں آخر

کوئی نا آشنا دیکھا نہ جائے

فرازؔؔ اپنے سوا ہے کون تیرا

تجھے تجھ سے جدا دیکھا نہ جائے

احمد فراز

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button