ادریس بابراردو غزلیاتشعر و شاعری

دھوم گم گشتہ خزانوں کی مچاتا پھرے کون

ایک اردو غزل از ادریس بابر

دھوم گم گشتہ خزانوں کی مچاتا پھرے کون

ان زمانوں میں جو تھے ہی نہیں جاتا پھرے کون

باغ میں ان سے ملاقات کا امکان بھی ہے

صرف پھولوں کے لیے لوٹ کے آتا پھرے کون

سیکھ رکھے ہیں پرندوں نے سب اشجار کے گیت

آج کل موڈ ہی ایسا ہے کہ گاتا پھرے کون

میں تو کہتا ہوں یہیں غار میں رہ لو جب تک

وقت پوچھو ہی نہیں شہر بساتا پھرے کون

بھیس بدلے ہوئے اک شخص کی خاطر ہے یہ سب

ہم فقیروں کے بھلا ناز اٹھاتا پھرے کون

خواب یعنی یہ شب و روز جسے چاہیے ہوں

آ کے لے جائے اب آواز لگاتا پھرے کون

اختلافات سروں میں ہیں گھروں سے بڑھ کر

پھر اٹھانی جو ہے دیوار گراتا پھرے کون

ادریس بابر

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button