26 جون, 2020

    اسیر کر کے نہ لی تو نے تو خبر صیاد

    میر تقی میر کی ایک غزل
    21 جون, 2020

    کس توقع جئیں ہم دیوانے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    26 اگست, 2025

    نصیب عشق دلِ بےقرار بھی تو نہیں

    ایک اردو غزل از ناصر کاظمی
    25 جون, 2020

    جوں ابرقبلہ دل ہے نہایت ہی بھر رہا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    30 جون, 2020

    زلف ہی درہم نہیں ابرو بھی پرخم اور ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    23 مئی, 2020

    مرے اندر روانی ختم ہوتی جا رہی ہے

    احمد خیال کی اردو غزل
    25 جون, 2020

    ایک دل کو ہزار داغ لگا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    14 نومبر, 2021

    سمجھ میں آتے جو دل کے معاملات اُسے

    ایک اردو غزل از ارشاد نیازی
    4 مئی, 2020

    عاشقی خانہ بدوشی میں کٹی

    منزّہ سیّد کی ایک اردو غزل
    10 مارچ, 2025

    زرا سی ہو جو اجازت

    ایک اردو غزل از صوفیہ بیدار
    18 جون, 2020

    جہان آرزو آواز ہی آواز ہوتا ہے

    قابل اجمیری کی اردو غزل
    6 اگست, 2020

    آنکھ اٹھی جس سمت چاروں اور ھے

    ایک اردو غزل از خدیجہ آغا
    3 دسمبر, 2019

    دل جلا کر بھی دلربا نکلے

    محسن نقوی کی اردو غزل
    28 جون, 2020

    لطف کیا ہر کسو کی چاہ کے ساتھ

    میر تقی میر کی ایک غزل
    19 اکتوبر, 2025

    بستیاں ہو گئیں بے نام و نشاں راتوں رات

    خاطر غزنوی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button