26 جون, 2020

    ہوئیں رسوائیاں جس کے لیے چھوٹا دیار اپنا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    1 اپریل, 2020

    وہ عِشق جو ہم سے رُوٹھ گیا

    اطہر نفیس کی اردو غزل
    9 نومبر, 2025

    وجود چاٹنے لگتا ہے جب دکھن سے مجھے

    بشریٰ شہزادی کی ایک اردو غزل
    18 نومبر, 2020

    چہرہ کوئی بھی آنکھ میں ٹھہرا نہ پھر کبھی

    ایک اردو غزل از شبیرنازش
    13 اپریل, 2019

    ہیں کہ دل میں کوئی آرزو نہیں مرے دوست

    صدیق صائب کی ایک اردو غزل
    23 مارچ, 2025

    اک شورِ حزیں دل میں

    ایک غزل از ایمان ندیم ملک
    16 جنوری, 2020

    مگر وہ پھول سا چہرہ

    شکیب جلالی کی ایک اردو غزل
    4 اپریل, 2025

    جانے کس پیاس کا چہرہ ہے

    ایک اردو غزل از ڈاکٹر طارق قمر
    26 جون, 2025

    رند مدہوش ہیں

    ذیشان احمد خستہ کی ایک اردو غزل
    19 جنوری, 2020

    جس نے ساری عمر کاٹی مفلسی کی قید میں

    ایک اردو غزل از ایوب صابر
    6 اپریل, 2026

    دربارِ شاہ میں یوں نہ سر کو

    زین علی آصف کی ایک اردو غزل
    15 مئی, 2020

    میں سمجھا تھا ذرا سا مختلف ہے

    ایک اردو غزل از صغیر احمد صغیر
    17 فروری, 2026

    اب سنبھلنے کی مصیبت میں

    لطیف ساجد کی ایک اردو غزل
    22 مئی, 2020

    دروازے پر قفل پڑا ہے

    ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
    14 مئی, 2024

    اے ساقی!

    ناصر زملؔ کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button