26 اپریل, 2021

    ادھیڑ کر خامشی کی الجھن

    ایک اردو غزل از ارشاد نیازی
    1 جنوری, 2022

    ماہِ نو کا پیام ہو جیسے

    ایک اردو غزل از شبیرنازش
    20 دسمبر, 2019

    اے چمن والو! متاعِ رنگ و بُو جلنے لگی

    ایک اردو غزل از ساغر صدیقی
    28 مئی, 2020

    ہمارے سینے میں جو خلا تھا

    فیصل ہاشمی کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    24 مئی, 2020

    کیا کہوں کیسے اضطرار میں ہوں

    شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
    1 نومبر, 2025

    بر سرِدار مَیں اکیلا ہوں

    عمران ہاشمی کی ایک اردو غزل
    18 دسمبر, 2019

    کیا یا کام انہیں پرسشِ اربابِ وفا سے

    حسرت موہانی کی ایک اردو غزل
    7 جنوری, 2020

    دل سے شوق رخ

    ایک اردو غزل از میر
    26 جون, 2020

    جنوں میں اب کے کام آئی نہ کچھ تدبیر بھی آخر

    میر تقی میر کی ایک غزل
    29 دسمبر, 2019

    یہی مسئلہ تجھے ہر جگہ نظر آئے گا

    سعود عثمانی کی ایک اردو غزل
    4 جنوری, 2020

    کہیں تو گرد اُڑے

    گلزار کی ایک اردو غزل
    7 جنوری, 2020

    ترے جلووں کے آگے ہمت شرح و بیاں رکھ دی

    ایک اردو غزل از اصغر گونڈوی
    20 مئی, 2020

    لب کشا شہرِ ملامت ہے چلو پوچھتے ہیں

    سعید خان کی اردو غزل
    22 جنوری, 2020

    کام ضروری آن پڑا ہے

    ایک اردو غزل از عاصم ممتاز

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button