14 مئی, 2024

    غزل کے سینے میں روز

    ناصر زملؔ کی ایک اردو غزل
    2 جنوری, 2020

    منفرد سا کوئی پیدا وہ فن چاہتی ہے

    ایک غزل از نوشی گیلانی
    17 جون, 2020

    تضاد جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے

    قابل اجمیری کی اردو غزل
    23 مئی, 2020

    مثالِ برگ میں خود کو اڑانا چاہتی ہوں

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    22 جنوری, 2020

    لب ترے کی دل کشی سے ملتا ہے

    ایک اردو غزل از عاصم ممتاز
    22 نومبر, 2022

    روشنی والے وسیلے کی لگی رہتی ہے

    ایک غزل از شہلا خان
    23 نومبر, 2019

    ٹکڑے نہیں جگر کے ہیں اشکوں کے تار میں

    بہادر شاہ ظفر کی اردو غزل
    1 دسمبر, 2019

    جا کہیو ان سے نسیمِ سحر!

    بہادر شاہ ظفر کی اردو غزل
    22 جون, 2020

    تو ہے مشہور دل آزار یہ کیا

    داغ دہلوی کی اردو غزل
    19 مئی, 2020

    جو اُس نے غم لکھے سارے

    ایک اردو غزل از ناصر ملک
    22 جون, 2020

    دل کو جب تیری رہگزر جانا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    1 دسمبر, 2019

    سیلاب سچ ہے اور در و دیوار خوب ہیں

    شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
    5 اپریل, 2020

    کچھ خاک سے ہے کام

    ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    گل گئے بوٹے گئے گلشن ہوئے برہم گئے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    12 اکتوبر, 2019

    کب محض تسکینِ جان و دِل

    رحمان فارس کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button