آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعری

دھوپ کمرے میں چلی

ڈاکٹر طارق قمر کی ایک اردو غزل

دھوپ کمرے میں چلی آئی تھی
جب دریچے سے شناسائی تھی

شہر کا شہر امڈ آیا تھا
کیا عجب پرسشِ تنہائی تھی

کچھ تو بدلا ہے بچھڑ کر اس سے
رات کیوں نیند نہیں آئی تھی

شہرِ گریہ کے شب و روز نہ پوچھ
رات کے بعد بھی رات آئی تھی

میں نے شمشیر بنالی اس سے
تم نے زنجیر جو پہنائی تھی۔

تم نے سمجھا تھا نوازش جس کو
وہ تو زخموں کی پذیرائی تھی

اس نے آنکھوں سے پکارا تھا مجھے
مجھ کو آواز نظر آئی تھی

وہ تو کام آگئی وحشت طارق
ورنہ رسوائی ہی رسوائی تھی

ڈاکٹر طارق قمر

ڈاکٹر طارق قمر

ڈاکٹر طارق قمر سینئر ایسو سی ایٹ ایڈیٹر نیوز 18 اردو لکھنئو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button