28 مئی, 2024

    وہی تو اوجِ خِرَد پر براجمان ہوۓ

    شہزین وفا کی ایک اردو غزل
    27 نومبر, 2024

    خاموش دل کی آواز

    شاکرہ نندنی کی ایک اردو غزل
    18 دسمبر, 2024

    نظر پڑے تو غزل کے مزاج دانوں کی

    قیصرالجعفری کی ایک اردو غزل
    28 جون, 2020

    غیر کو دیکھے ہے گرمی سے نہ کچھ لاگ لگے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    21 جون, 2020

    موج ہاتھ آئے تو دریا مانگیں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    8 مئی, 2020

    موسمِ ہجر کے آزار بڑھائے گریہ

    مبشر سعید کی ایک اردو غزل
    20 مئی, 2020

    سپردگی کا قرینہ سبھی کو آتا ہے

    سعید خان کی اردو غزل
    14 ستمبر, 2025

    دل خراب کے احکام ٹھیک لگنے لگے

    کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل
    14 اپریل, 2020

    تری تصویر اٹھائی ہوئی ہے

    زبیر قیصر کی ایک اردو غزل
    3 دسمبر, 2019

    ہم میں ہی تھی نہ کوئی بات

    اردو غزل از حفیظ جالندھری
    24 اپریل, 2020

    جب دُکھ یاد آئے , شعر کہا

    ایک اردو غزل از منزّہ سیّد
    1 دسمبر, 2019

    طویل راتوں کی خامشی میں

    اردو غزل از احمد راہی
    26 مارچ, 2020

    دُھول سے پھول برابر ہوا میں

    شجاع شاذ کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    غم کا باب وا ہوا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    24 فروری, 2025

    منسوب تری ذات سے سب رنگ

    ایک اردو غزل از فارحہ نوید

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button