27 جون, 2020

    کیا کیا جہاں اثر تھا سو اب واں عیاں نہیں

    میر تقی میر کی ایک غزل
    9 فروری, 2020

    صبر , گریہ , نہ یوں اچھال مرا

    ارشاد نیازی کی ایک اردو غزل
    24 جون, 2020

    بت کو بت اور خدا کو

    داغ دہلوی کی اردو غزل
    29 نومبر, 2019

    تری تلاش میں نکلے ہوؤں کا حصّہ ہیں

    انور شعورکی ایک اردو غزل
    17 جنوری, 2025

    تماشہ

    منزّہ سیّد کی ایک غزل
    18 دسمبر, 2019

    یاد ہیں سارے وہ عیشِ با فراغت کے مزے

    حسرت موہانی کی ایک اردو غزل
    4 نومبر, 2021

    یقین رکھ اپنے حوصلوں پر

    ایک اردو غزل از حسن فتحپوری
    30 جون, 2020

    کوفت سے جان لب پہ آئی ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    7 مارچ, 2025

    دیئے سے ویسے ذرا پست قد

    ضمیر قیس کی ایک اردو غزل
    23 مارچ, 2025

    لوٹ کر آۓ نہیں چھوڑ کے

    ایک غزل از ایمان ندیم ملک
    3 نومبر, 2021

    بیخودی بھی حاملِ اقدار ہونی چاہیے

    ایک اردو غزل از سیّدہ منوّر جہاں منوّر
    29 نومبر, 2020

    بات بے بات ہنستی ہوئی لڑکیاں

    سید کامی شاہ کی ایک اردو غزل
    24 مئی, 2020

    مسلسل زلزلے ہیں چشمِ نم میں

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    30 مئی, 2021

    غم سنائیں تو ہوش کھو بیٹھیں

    منزّہ سیّد کی ایک غزل
    27 جون, 2020

    محمل نشیں ہیں کتنے خدام یار میں یاں

    میر تقی میر کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button