8 جون, 2020

    پہاڑی ایسے سڑک سے لپٹ چکی ہو گی

    فیضان ہاشمی کی ایک اردو غزل
    8 مارچ, 2025

    پودوں کا مسئلہ تو فقط

    ضمیر قیس کی ایک اردو غزل
    14 مئی, 2024

    سرِ بازار

    ناصر زملؔ کی ایک اردو غزل
    29 مئی, 2020

    اسے تشبیہ کا دوں آسرا کیا

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    5 جنوری, 2026

    اک ہنر دیدۂ خوش آب میں رکھا ہم نے

    اختر عثمان کی ایک اردو غزل
    14 جون, 2020

    بے چارگئ حسرت دیدار دیکھنا

    حفیظ ہوشیارپوری کی اردو غزل
    27 جون, 2025

    جس طرح سوچتا تھا میں

    محمد علی سوزؔ کی ایک اردو غزل
    12 جنوری, 2026

    کیا مٹا دو گے نام پھولوں کا

    رومانہ رومی کی ایک اردو غزل
    6 اگست, 2020

    آنکھ اٹھی جس سمت چاروں اور ھے

    ایک اردو غزل از خدیجہ آغا
    27 مئی, 2020

    اس کی نظر کو داد دو جس نے یہ حال کر دیا

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    19 نومبر, 2021

    زمیں کا سانچہ ہے اور آسمان کا خاکہ

    ایک غزل از عامر ابدال
    22 مئی, 2020

    جیسے یہ درد سے بنی ہوئی تھی

    ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
    20 مئی, 2020

    نظر فریبِ قضا کھا گئی تو کیا ہو گا

    ایک اردو غزل از احسان دانش
    21 نومبر, 2019

    ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا

    پروین شاکر کی ایک اردو غزل
    25 جون, 2020

    ان سختیوں میں کس کا میلان خواب پر تھا

    میر تقی میر کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button