8 مئی, 2020

    کبھی کبھی تو نہ ہوگی کبھی ہوا کرے گی

    دانش نقوی کی ایک اردو غزل
    25 جون, 2020

    غنچہ ہی وہ دہان ہے گویا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    29 جون, 2020

    درونے کو کوئی آہوں سے یوں کب تک ہوا دیوے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    4 فروری, 2020

    صحراؤں کے دوست تھے ہم خود آرائی سے ختم ہوئے

    ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل
    2 نومبر, 2025

    قباحت ایسی بھی کیا ہے

    شاہد ماکلی کی ایک اردو غزل
    31 مئی, 2020

    گر دل سے بھلائی مری چاہت نہیں جاتی

    ناہید ورک کی اردو غزل
    18 دسمبر, 2019

    خوبرویوں سے یاریاں نہ گئیں

    حسرت موہانی کی ایک اردو غزل
    8 جنوری, 2025

    گل بدن خاک نشینوں سے

    ممتاز گورمانی کی ایک اردو غزل
    4 جنوری, 2020

    ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے

    گلزار کی ایک اردو غزل
    23 اگست, 2020

    وبا جان لیوا , ادا جان لیوا

    ایک اردو غزل از ارشاد نیازی
    28 جنوری, 2020

    دل اب اُس کو ہار رہا ہے

    ایک اردو غزل از اویس خالد
    6 مارچ, 2025

    قضا نے عمر کا یوں مختصر

    حنا بلوچ کی ایک اردو غزل
    5 جنوری, 2026

    تجھ پر مری رسوائی کا الزام تو ہے نا

    اختر عثمان کی ایک اردو غزل
    5 اپریل, 2013

    نیت شوق بھر نہ جائے کہیں

    ایک اردو غزل از ناصر کاظمی
    19 دسمبر, 2019

    زخمِ دل پر بہار دیکھا ہے

    ایک اردو غزل از ساغر صدیقی

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button