آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعری

دل نے کارِ ہنر نہیں چھوڑا

یوسف عابدی کی ایک اردو غزل

دل نے کارِ ہنر نہیں چھوڑا
اور تجھے سربسر نہیں چھوڑا

انتہائی تھی بے دلی جب کہ
مسکرانا مگر نہیں چھوڑا

کوئی سمجھائے یہ اُسے جاکر
گھر ہی چھوڑا ہے در نہیں چھوڑا

میں تجھے چھوڑ بھی تو سکتا تھا
دل میں تیرے یہ ڈر نہیں چھوڑا

بن مِرے کس طرح جیے گا وہ
بس یہی سوچ کر نہیں چھوڑا

اب اُسے خاک بھول پاوں گا
وہ جسے عمر بھر نہیں چھوڑا

مجھ کو دفتر ہی چھوڑنا پڑتا
اس لیے تجھ کو گھر نہیں چھوڑا

چھوڑ سکتا تھا سب ہی کچھ یوسف
قصہ المختصر نہیں چھوڑا

یوسف عابدی

post bar salamurdu

یوسف عابدی

مکمل نام : سید محمد یوسف عابدیقلمی نام : یوسف عابدیتخلص : یوسفعمر : 31 سالجائے پیدائش : کراچییومِ پیدائش : 11 جنوری 1993تعلیم : گریجویشن (جامعہ کراچی)اہم اصنافِ سخن : غزلپسندیدہ شعرا : میر و غالب، قتیل شفائی، جون ایلیاء ، احمد فراز، پروین شاکر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button