آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعری

کاش سمندر عشق

غلام عباس ساغر کی ایک اردو غزل

کاش سمندر عشق میں سہارا دیا ہوتا
آنکھوں کو آنکھوں کا کنارہ دیا ہوتا

دل میرا بھی مانند گل تھا اے ناداں،
پر ڈوبنے سے پہلے دل ہمارا دیا ہوتا

آنکھ میں چھپائے تھے جو سمندر بےوفائی کے
کبھی ڈوبنے سے پہلے ان کا نظارہ دیا ہوتا

آنکھ سے دل میں اتر جانا تو فطرت تھی اس کی
پر بےوفائی کا کوئی تو اشارہ دیا ہوتا

ہم پھر اس کی باتوں میں آجاتے ساغر
گر اس نے دیدار دوبارہ دیا ہوتا

غلام عباس ساغر

غلام عباس ساغر

غلام عباس ساغر 8مارچ 1992 میں جہلم میں پیدا ہوئے۔ان کا شمار پاکستان کے عظیم شاعروں ،سیاست دانوں اور فلاحی شخصیات میں کیا جاتا ہے۔ غلام عباس ساغر کو راجہ عباس ساغر منہاس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔ 1997 میں غلام عباس ساغر نے تعلیمی زندگی جہلم کے گورنمنٹ اسکول میں شروع کی ، اعلی تعلیم کے لیے ایم اے جناح کالج جہلم کا انتخاب کیا اور پنجاب یونیورسٹی سے بھی مستفید ہوئے . اردو ادب کی تعلیم اپنے والد محمد منیر ساغر (اردو و پنجابی شاعر)سے ہی گھر میں حاصل کی تاہم اردو ادب کی تعلیم کے لیے انکو کسی ادارے کا سہارہ نہ لینا پرا ۔ دینی و مذہبی تعلیم کے لیے غلام عباس ساغر نے ادارہ منہاج القرآن کا سہارہ لیا۔ تعلیم کی تکمیل کے بعد کافی عرصہ دوبئی میں مقیم رہے اور مختلف کمپنیز میں اپنے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ لیکن پاکستان کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان واپس آ گئے اور اپنی فلاحی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔فلاحی سرگرمیوں کے علاوہ پاکستانی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کا تعلق منہاس راجپوت خاندان سے ہے۔راشد منہاس شہید بھی اسی خاندان کا ایک سپوت ہے۔آج کل غلام عباس ساغر لندن یوکے میں مقیم ہیں اور اوورسیز پاکستانیوں کےلئے پاکستان اوورسیز ایسوسی ایشن فورم کے تحت خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور دی سپیچ جسٹس کے نام سے ایک انٹرنیشنل آرگنائیزیشن بھی چلا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button