20 مئی, 2020

    پھر یہ کیوں مستعار لی جائے

    ایک اردو غزل از ناصر ملک
    9 نومبر, 2025

    پِھر اُس کے بعد تو تنہائِیوں

    رشید حسرت کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    بیگانہ وضع برسوں اس شہر میں رہا ہوں

    میر تقی میر کی ایک غزل
    8 اپریل, 2020

    میں اسے سوچتا رہا یعنی

    ایک اردو غزل از ادریس بابر
    29 نومبر, 2019

    کُچھ بھی کر گزرنے میں دیر کِتنی لگتی ہے

    ایک اردو غزل از نوشی گیلانی
    21 مئی, 2024

    میں کہ افسردہ مکانوں میں رہوں

    زاہد فخری کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    معلوم نہیں کیا ہے لب سرخ بتاں میں

    میر تقی میر کی ایک غزل
    13 اکتوبر, 2019

    ذرا ٹھہرو

    جون ایلیا کی ایک غزل
    5 جون, 2020

    دیکھا تو تھا یوں ‌ہی کسی غفلت شعار نے

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو غزل
    21 اکتوبر, 2019

    بے قراری سی بے قراری ہے

    جون ایلیا کی ایک غزل
    15 اپریل, 2020

    مرے ہم نفس مرے ہم زباں مرے مہرباں

    شجاع شاذ کی ایک اردو غزل
    12 جون, 2020

    غبارِ دشتِ یکسانی سے نکلا

    کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل
    15 اکتوبر, 2025

    وفا کی لو کبھی مدھم نہ کرنا

    شاز ملک کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2020

    داغ ہوں جلتا ہے دل بے طور اب

    میر تقی میر کی ایک غزل
    22 اکتوبر, 2019

    ہوا دم سادھ لیتی ھے تو پھر ھُو بولتے ھیں

    رحمان فارس کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button