3 دسمبر, 2020

    شام ہوئی تو کوزہ گر پہ کوزہ گری کا بھید کھلا

    سید کامی شاہ کی ایک اردو غزل
    3 دسمبر, 2019

    اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا

    محسن نقوی کی اردو غزل
    2 نومبر, 2025

    خدا سے، عشق سے

    ایک اردو غزل از شجاع شاذ
    20 جون, 2020

    بات کو جرم ناسزا سمجھے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    31 مئی, 2024

    رفتہ رفتہ تو یہ نفرت کی

    اکرم کنجاہی کی ایک اردو غزل
    28 نومبر, 2019

    عشق کب تک آگ سینہ

    میر حسن کی اردو غزل
    22 مئی, 2020

    دشت میں اک طلسم آب کے ساتھ

    ایک اردو غزل از ثمینہ راجہ
    28 مئی, 2024

    اس نے پوچھا بھی مگر

    فہیم شناس کاظمی کی ایک اردو غزل
    15 دسمبر, 2024

    کس محبت سے یہ ہجرت کے

    خالد ندیم شانی کی ایک اردو غزل
    20 جون, 2020

    خیال سود احساس زیاں تک ساتھ دیتا ہے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    9 نومبر, 2025

    کب تلک چولہے جلائیں گی ہماری عورتیں

    بشریٰ شہزادی کی ایک اردو غزل
    5 نومبر, 2020

    دل و نگاہ کے حسن و قرار کا موسم

    شازیہ اکبر کی اردو غزل
    4 جنوری, 2020

    حواس کا جہان ساتھ لے گیا

    گلزار کی ایک اردو غزل
    18 مارچ, 2026

    جنون و عشق کے رستے بحال کرتی ہے

    شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
    16 دسمبر, 2019

    ہر وقت فکرِ مرگِ غریبانہ چاہیے

    مجید امجد کی اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button