26 جون, 2020

    کیا تو نمود کس کی کیسا کمال تیرا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    16 جنوری, 2020

    جلتے صحراؤں میں پھیلا ہوتا

    شکیب جلالی کی ایک اردو غزل
    26 اپریل, 2020

    دل نے اپنی زباں کا پاس کیا

    ایک اردو غزل از رسا چغتائی
    14 نومبر, 2021

    سکول جانے کی عمر ہے

    ایک اردو غزل از علی زیرک
    23 نومبر, 2019

    گرد ہوں یا غبار ہوں کیا ہوں

    بہادر شاہ ظفر کی اردو غزل
    29 نومبر, 2019

    ذہن میرا جِلا کے رُخ پر ہے

    انور شعورکی ایک اردو غزل
    28 جون, 2020

    آج کچھ بے حجاب ہے وہ بھی

    میر تقی میر کی ایک غزل
    17 نومبر, 2019

    دل نے وفا کے نام پر

    ایک غزل از جون ایلیا
    30 جنوری, 2020

    ترے قابل جو ہم سمجھے تو اپنا دل اُٹھا لائے

    ایک اردو غزل از دلشاد احمد
    21 نومبر, 2019

    دھوپ سات رنگوں میں پھیلتی ہے آنکھوں پر

    پروین شاکر کی ایک اردو غزل
    24 مئی, 2020

    زندگی چار دن کی مہلت ہے

    ایوب خاور کی اردو غزل
    26 اپریل, 2020

    محبّت کی بجائے مُجھ سے

    ایک اردو غزل از منزّہ سیّد
    17 اگست, 2026

    دلِ برباد کی حالت، زمانے کو بتاتے کیا

    محمد عمیر سالک کی ایک اردو غزل
    17 مارچ, 2026

    ہم جیسوں کا خیال کسی نے نہیں کیا

    اکرام عارفی کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2020

    کوئی فقیر یہ اے کاشکے دعا کرتا

    میر تقی میر کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button