آپ کا سلاماردو شاعریاردو غزلیاتناصر زملؔ

دوا میں زہر ملائے

ناصر زملؔ کی ایک اردو غزل

دوا میں زہر ملائے تو پھر مزہ آئے
طبیب تجھ سا پلائے تو پھر مزہ آئے

سوال آئے محبت کا تیرے پرچے میں
تجھے جواب نہ آئے تو پھر مزہ آئے

جو کندھا آج میسر تجھے ہے سونے کو
مری طرح بھی سلائے تو پھر مزہ آئے

شبِ فراق میں جتنی تپش ہے گرمی ہے
بجھے دیوں کو جلائے تو پھر مزہ آئے

اسے تڑپنا پڑے میری طرح فرقت میں
وہ روئے حشر اٹھائے تو پھر مزہ آئے

خدا سے مانگ رہا ہوں میں جس قدر اسکو
وہ چیختا ہوا آئے تو پھر مزہ آئے

 

ناصر زملؔ

ناصر زملؔ

ناصر زملؔ قلمی نام : زملؔ ضلع : وہاڑی ناصر زملؔ پاکستان ضلع وہاڑی سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاعر ہیں ۔ انکا پہلا مجموعہ شاعری جنوری 2024 کو شائع ہوا جس کا نام "سحرِ بیاں" ہے جو " سرائے اُردو پبلیکیشن سیالکوٹ" پر دستیاب ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button