25 جون, 2020

    چمن میں جاکے جو میں گرم وصف یار ہوا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    23 مئی, 2020

    سہیلی خبر کچھ نہیں میں کہاں ہوں

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    24 ستمبر, 2025

    لازم ہے وہ ہر بات کو ترتیب سے رکھے

    منزہ سحر کی ایک اردو غزل
    9 مئی, 2025

    تم نے ہی مشکل میں ڈالا

    احمد رضا حاضر کی ایک اردو غزل
    24 جنوری, 2020

    گھر کا رستہ بھولنے والے کی خیر

    منزّہ سیّد کی ایک اردو غزل
    4 اپریل, 2025

    جانے کس پیاس کا چہرہ ہے

    ایک اردو غزل از ڈاکٹر طارق قمر
    28 جنوری, 2020

    سکون و صبر کا اُمید

    شکیل بدایونی کی ایک اردو غزل
    28 جون, 2020

    پھرتی ہیں اس کی آنکھیں آنکھوں تلے ہمیشہ

    میر تقی میر کی ایک غزل
    21 نومبر, 2019

    میں فقط چلتی رہی

    پروین شاکر کی ایک اردو غزل
    26 فروری, 2025

    گھر کی دیوار پہ کیوں لکھا

    عدنان اثر کی ایک غزل
    20 مارچ, 2026

    نہ جانے کیا سے کیا مجھ کو

    سرفراز آرش کی ایک اردو غزل
    12 اکتوبر, 2025

    قابل نہیں سمجھتے جنھیں

    ثوبیہ راجپوت کی ایک اردو غزل
    8 جولائی, 2020

    جب ہونٹوں پر تالوں نے دل چیر دیا

    منزّہ سیّد کی ایک غزل
    22 فروری, 2026

    رنگ جب کوئی لب دیدۂ تر آئے گا

    عثمان علوی کی ایک اردو غزل
    2 مئی, 2020

    زوالِ شب کی ساعتوں میں کھو گیا

    منزّہ سیّد کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button