اردو غزلیاتشعر و شاعریشہزاد نیّرؔ

بجھ گئی آگ ‘ سو میں اپنی تن آسانی کو

ایک غزل از شہزاد نیّرؔ

بجھ گئی آگ ‘ سو میں اپنی تن آسانی کو
اوڑھ لیتا ہوں ترے جسم کی عُریانی کو

خوف کھائیں گے تو مر جائیں گے ویرانے میں
تُم زرا آگ جلاؤ ‘ میں چلا پانی کو

بے سبب کوئی یہاں دشت و بیاباں لایا
ہجر کافی تھا مری آنکھ کی ویرانی کو

واپس آئے تو در و بام بھی اپنے نہ رہے
ہم جو گھر چھوڑ کے نکلے تھے جہاں بانی کو

پہرہ داروں نے مرے قتل میں عجلت کی ہے
میں تو آیا تھا ترے گھر کی نگہبانی کو

میں تو سیلاب سے کہتا ہوں مرے گھر آؤ
اور لے جاؤ مری بے سرو سامانی کو

وہ اگر ڈھانپ دے تعبیر سے مجھ کو نیّرؔ
چھوڑ دوں خوابِ پیشماں کی پیشمانی کو

شہزاد نیّرؔ

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button